دنیائے مسیحیت کا پہلا پوپ پطرس

پطرس جن کا پیدائشی نام شمعون بن یونس (یوحنّا یا یوناہ) تھا رہائشی اعتبار سے کفرناحوم (لغوی معنیٰ سکون والی بستی) سے تھے اور اپنے بھائی اندریاس کے ساتھ ماہی گیری کا کام کرتے تھے ہمیں ان کے نسب نامہ کی کوئی خاص معلومات نہیں ہیں۔

شمعون اور اندریاس عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات (لوقا کی روایت)

ان کا ذکر عیسیٰ علیہ السلام سے پہلی ملاقات سے ہوتا ہے جو اناجیل کی روایات میں آتا ہے۔ یوحنّا کی روایت کو دیکھیں تو

دُوسرے دِن پِھر یُوحنّا (حضرت یحییٰؑ) اور اُس کے شاگِردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے۔ اُس نے (یعنی یحییٰؑ نے)، یِسُوعؔ (عیسیٰؑ) پر جو جا رہا تھا نِگاہ کر کے کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے! وہ دونوں شاگِرد اُس کو یہ کہتے سُن کر یِسُوعؔ کے پِیچھے ہو لِئے۔ یِسُوعؔ نے پِھر کر اور اُنہیں پِیچھے آتے دیکھ کر اُن سے کہا تُم کیا ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے اُس سے کہا اَے ربّی (یعنی اَے اُستاد) تُو کہاں رہتا ہے؟ اُس نے اُن سے کہا چلو دیکھ لو گے۔ پس اُنہوں نے آ کر اُس کے رہنے کی جگہ دیکھی اور اُس روز اُس کے ساتھ رہے اور یہ دسویں گھنٹے کے قرِیب تھا۔ اُن دونوں میں سے جو یُوحنّا (یحییٰؑ) کی بات سُن کر یِسُوعؔ (عیسیٰؑ)  کے پِیچھے ہو لِئے تھے ایک شمعُون پطرس کا بھائی اندرؔیاس تھا۔ اُس نے پہلے اپنے سگے بھائی شمعُونؔ سے مِل کر اُس سے کہا کہ ہم کو خرِؔستُس یعنی مسِیح مِل گیا۔ وہ اُسے یِسُوعؔ (عیسیٰؑ) کے پاس لایا۔ یِسُوعؔ (عیسیٰؑ) نے اُس پر نِگاہ کر کے کہا کہ تُو یُوحنّا کا بیٹا شمعُونؔ ہے۔ تُو کیفا یعنی پطرؔس کہلائے گا [انجیل بروایت یوحنّا: باب: ۱، آیت ٣٥ تا ٤٢]۔¹ 

اس سے ہمیں یہ معلومات ملتی ہیں کہ اندریاس اور شمعون دراصل حضرت یحییٰ علیہ السلام کے شاگردان تھے اور اندریاس نے ہی شمعون کو عیسیٰ علیہ السلام سے ملوایا اور ان کے مسیح ہونے کا انکشاف کیا۔ متی کی روایت اس واقعے کو کچھ مختلف انداز میں بیان کرتی ہے 

اور اُس نے گلِیل کی جِھیل کے کنارے پِھرتے ہُوئے دو بھائِیوں یعنی شِمعُوؔن کو جو پطرسؔ کہلاتا ہے اور اُس کے بھائی اندرؔیاس کو جِھیل میں جال ڈالتے دیکھا کیونکہ وہ ماہی گِیر تھے۔ اور اُن سے کہا میرے پِیچھے چلے آؤ تو مَیں تُم کو آدم گِیر بناؤُں گا۔ وہ فورًا جال چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے [انجیل بروایت متی: باب ٤، آیت ۱۸ تا ٢٠]۔² 

اس واقعہ کو مرقس یوں روایت کرتا ہے

اور گلِیل کی جِھیل کے کنارے کنارے جاتے ہُوئے اُس نے شمعُون اور شمعُون کے بھائی اندریاس کو جِھیل میں جال ڈالتے دیکھا کیونکہ وہ ماہی گِیر تھے۔ اور یِسُوع نے اُن سے کہا میرے پِیچھے چلے آؤ تو مَیں تُم کو آدمؔ گِیر بناؤں گا۔ وہ فی الفَور جال چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے [انجیل بروایت مرقس: باب ۱، آیت ١٦ تا ۱۸]۔³ 

ان آخری دو حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے ان دونوں بھائیوں (شمعون اور اندریاس) کو خود بلایا وہ یحییٰ علیہ السلام کے شاگردان نہیں تھے اور نہ ہی اندریاس نے شمعون کا عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف بطور مسیح کروایا۔ جب کہ لُوقا کی روایت مذکورہ بالا تینوں روایات سے مختلف ہے وہاں لکھا ہے کہ

جب بِھیڑ اُس پر گِری پڑتی تھی اور خُدا کا کلام سُنتی تھی اور وہ گنّیسرؔت کی جِھیل کے کنارے کھڑا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے جِھیل کے کنارے دو کشتِیاں لگی دیکِھیں لیکن مچھلی پکڑنے والے اُن پر سے اُتر کر جال دھو رہے تھے۔ اور اُس نے اُن کشتِیوں میں سے ایک پر چڑھ کر جو شمعُونؔ کی تھی اُس سے درخواست کی کہ کنارے سے ذرا ہٹا لے چل اور وہ بَیٹھ کر لوگوں کو کشتی پر سے تعلِیم دینے لگا۔ جب کلام کر چُکا تو شمعُونؔ سے کہا گہرے میں لے چل اور تُم شِکار کے لِئے اپنے جال ڈالو۔ شمعُونؔ نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے رات بھر محنت کی اور کُچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہُوں۔ یہ کِیا اور وہ مچھلِیوں کا بڑا غَول گھیر لائے اور اُن کے جال پھٹنے لگے۔ اور اُنہوں نے اپنے شرِیکوں کو جو دُوسری کشتی پر تھے اِشارہ کِیا کہ آؤ ہماری مدد کرو۔ پس اُنہوں نے آ کر دونوں کشتِیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈُوبنے لگِیں۔ شمعُونؔ پطرس یہ دیکھ کر یِسُوعؔ کے پاؤں میں گِرا اور کہا اَے خُداوند! میرے پاس سے چلا جا کیونکہ مَیں گُنہگار آدمی ہُوں۔ کیونکہ مچھلِیوں کے اِس شِکار سے جو اُنہوں نے کِیا وہ اور اُس کے سب ساتھی بُہت حَیران ہُوئے۔ اور وَیسے ہی زبدؔی کے بیٹے یعقُوبؔ اور یُوحنّا بھی جو شمعُونؔ کے شرِیک تھے حَیران ہُوئے۔ یِسُوعؔ نے شمعُونؔ سے کہا خَوف نہ کر۔ اب سے تُو آدمِیوں کا شِکار کِیا کرے گا۔ وہ کشتِیوں کو کنارے پر لے آئے اور سب کُچھ چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے [انجیل بروایت لوقا، باب: ٥، آیت ۱ تا ۱۱]۔⁴ 

اس واقعہ کے مطابق بھی پطرس اور اندریاس یحییٰ علیہ السلام کے شاگردان معلوم نہیں ہوتے بلکہ عام ماہی گیر تھے اور عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو خارِقِ عادۃ دکھائی۔ ان بظاہر چار روایات سے جو تین الگ الگ موقف پیدا ہوتے ہیں اتفاقی امر صرف اتنا ہے کہ اس کے بعد شمعون اور اندریاس عیسیٰ علیہ السلام کے پیچھے چل پڑے۔

پطرس کی ساس


اگر ہم اناجیل پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شمعون جب عیسیٰ علیہ السلام سے ملے تب وہ شادی شدہ تھے کیونکہ ان کے گھر ان کی بیمار ساس تھی جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے معجزاتی طور پر اللہ تعالیٰ سے شفا لے کر دی تھی۔ متی کی روایت ہے کہ

اور یِسُوعؔ نے پطرس کے گھر میں آ کر اُس کی ساس کو تپ میں پڑی دیکھا۔ اُس نے اُس کا ہاتھ چُھؤا اور تپ اُس پر سے اُتر گئی اور وہ اُٹھ کھڑی ہُوئی اور اُس کی خِدمت کرنے لگی [انجیل بروایت متی، باب: ٨، آیت: ١٤ تا ١٥]۔⁵ 

مرقس کے مطابق یوں ہوا کہ

شمعُونؔ کی ساس تپ میں پڑی تھی اور اُنہوں نے فی الفَور اُس کی خبر اُسے دی۔ اُس نے پاس جا کر اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اُٹھایا اور تَپ اُس پر سے اُتر گئی اور وہ اُن کی خِدمت کرنے لگی [انجیل بروایت مرقس، باب: ۱، ٣٠ تا ٣١]۔⁶ 

جب کہ لُوقا کی روایت یوں ہے کہ

پِھر وہ عِبادت خانہ سے اُٹھ کر شمعُونؔ کے گھر میں داخِل ہُؤا اور شمعُونؔ کی ساس کو بڑی تپ چڑھی ہُوئی تھی اور اُنہوں نے اُس کے لِئے اُس سے عرض کی۔ وہ کھڑا ہو کر اُس کی طرف جُھکا اور تپ کو جِھڑکا تو اُتر گئی اور وہ اُسی دَم اُٹھ کر اُن کی خِدمت کرنے لگی [انجیل بروایت لُوقا، باب: ٤، آیت ۳۸ تا ۳۹]۔⁷ 

ان روایت سے متفقہ طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شمعون شادی شدہ تھے اور ان کے گھر ان کی ساس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں آئے تب بخار کی مریضہ تھیں جسے انہوں نے اللہ کے حکم سے صحت و تندرستی میں بدل دیا۔

پطرس کا اقرار


متی کے بقول یہ واقعہ یوں پیش آیا تھا 

جب یِسُوعؔ قَیصرؔیہ فِلپَّی کے عِلاقہ میں آیا تو اُس نے اپنے شاگِردوں سے یہ پُوچھا کہ لوگ اِبنِ آدمؔ کو کیا کہتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا بعض یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا کہتے ہیں بعض ایلیّاؔہ بعض یِرمیاؔہ یا نبِیوں میں سے کوئی۔ اُس نے اُن سے کہا مگر تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ شِمعُوؔن پطرسؔ نے جواب میں کہا تُو زِندہ خُدا کا بیٹا مسِیح ہے۔ یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا مُبارک ہے تُو شمعُونؔ بریوؔناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خُون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تُجھ پر ظاہِر کی ہے۔ اور مَیں بھی تُجھ سے کہتا ہُوں کہ تُو پطرسؔ ہے اور مَیں اِس پتّھر پر اپنی کلِیسیا بناؤں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالِب نہ آئیں گے۔ مَیں آسمان کی بادشاہی کی کُنجِیاں تُجھے دوں گا اور جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھے گا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کُھلے گا۔ اُس وقت اُس نے شاگِردوں کو حُکم دِیا کہ کِسی کو نہ بتانا کہ مَیں مسِیح ہُوں [انجیل بروایت متی، باب: ١٦، آیت ۱۳ تا ۲۰]۔⁸ 

یہی واقعہ مرقس یوں بیان کرتے ہیں کہ

پِھر یِسُوعؔ اور اُس کے شاگِرد قَیصرؔیہ فِلپُّی کے گاؤں میں چلے گئے اور راہ میں اُس نے اپنے شاگِردوں سے یہ پُوچھا کہ لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دِیا کہ یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اور بعض ایلیّاؔہ اور بعض نبِیوں میں سے کوئی۔ اُس نے اُن سے پُوچھا لیکن تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ پطرؔس نے جواب میں اُس سے کہا تُو مسِیح ہے۔ پِھر اُس نے اُن کو تاکِید کی کہ میری بابت کِسی سے یہ نہ کہنا [انجیل بروایت مرقس، باب: ۸، آیت ٢٧ تا ٣٠]۔⁹ 

جب کہ لوقا میں بھی یہ قصہ کچھ اس طرح ہے

جب وہ تنہائی میں دُعا کر رہا تھا اور شاگِرد اُس کے پاس تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے اُن سے پُوچھا کہ لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب میں کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اور بعض ایلیّاؔہ کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔ اُس نے اُن سے کہا لیکن تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ پطرؔس نے جواب میں کہا کہ خُدا کا مسِیح [انجیل بروایت لوقا، باب: ۹، آیت ۱۸ تا ۲۱]۔¹⁰ 

اگر ان دو مؤخرالذکر روایات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شمعون نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مسیح ہونے کا اقرار کیا تھا مگر اول الذکر روایت کو دیکھیں تو اس میں عجیب سا اضطراب معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ یہود کو مسیح کا وعدہ تھا اور ظہور مسیح ہی عقلا و نقلا مطلوب تھا ناکہ خدا کا کوئی بیٹا بہرکیف ہم کسی کے منہ میں اپنے الفاظ نہیں ڈال سکتے۔

پطرس کے ایمان میں کمزوری


یہ واقعہ بروایت متی کچھ یوں ہے
اور اُس نے فورًا شاگِردوں کو مجبُور کِیا کہ کشتی میں سوار ہو کر اُس سے پہلے پار چلے جائیں جب تک وہ لوگوں کو رُخصت کرے۔ اور لوگوں کو رُخصت کر کے تنہا دُعا کرنے کے لِئے پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب شام ہُوئی تو وہاں اکیلا تھا۔ مگر کشتی اُس وقت جِھیل کے بِیچ میں تھی اور لہروں سے ڈگمگا رہی تھی کیونکہ ہوا مُخالِف تھی۔ اور وہ رات کے چَوتھے پہر جِھیل پر چلتا ہُؤا اُن کے پاس آیا۔ شاگِرد اُسے جِھیل پر چلتے ہُوئے دیکھ کر گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ بُھوت ہے اور ڈر کر چِلاّ اُٹھے۔ یِسُوعؔ نے فورًا اُن سے کہا خاطِر جمع رکھّو۔ مَیں ہُوں۔ ڈرو مت۔ پطرس نے اُس سے جواب میں کہا اَے خُداوند اگر تُو ہے تو مُجھے حُکم دے کہ پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں۔ اُس نے کہا آ۔ پطرسؔ کشتی سے اُتر کر یِسُوعؔ کے پاس جانے کے لِئے پانی پر چلنے لگا۔ مگر جب ہوا دیکھی تو ڈر گیا اور جب ڈُوبنے لگا تو چِلاّ کر کہا اَے خُداوند مُجھے بچا! یِسُوعؔ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لِیا اور اُس سے کہا اَے کم اِعتقاد تُو نے کیوں شک کِیا؟ اور جب وہ کشتی پر چڑھ آئے تو ہوا تھم گئی۔ اور جو کشتی پر تھے اُنہوں نے اُسے سِجدہ کر کے کہا یقِینًا تُو خُدا کا بیٹا ہے [انجیل بروایت متی، باب: ١٤، آیت: ۲۲ تا ۳۳]۔¹¹ 

جب کہ یہی واقعہ مرقس میں بہت ہی مختلف انداز میں ہے دیکھیں

اور فی الفَور اُس نے اپنے شاگِردوں کو مجبُور کِیا کہ کشتی پر بَیٹھ کر اُس سے پہلے اُس پار بَیت صیدا کو چلے جائیں جب تک وہ لوگوں کو رُخصت کرے۔ اور اُن کو رُخصت کر کے پہاڑ پر دُعا کرنے چلا گیا۔ اور جب شام ہُوئی تو کشتی جِھیل کے بِیچ میں تھی اور وہ اکیلا خُشکی پر تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ وہ کھینے سے بُہت تنگ ہیں کیونکہ ہوا اُن کے مُخالِف تھی تو رات کے پِچھلے پہر کے قرِیب وہ جِھیل پر چلتا ہُؤا اُن کے پاس آیا اور اُن سے آگے نِکل جانا چاہتا تھا۔ لیکن اُنہوں نے اُسے جِھیل پر چلتے دیکھ کر خیال کِیا کہ بُھوت ہے اور چِلاّ اُٹھے۔ کیونکہ سب اُسے دیکھ کر گھبرا گئے تھے مگر اُس نے فی الفَور اُن سے باتیں کِیں اور کہا خاطِر جمع رکھّو۔ مَیں ہُوں۔ ڈرو مت۔ پِھر وہ کشتی پر اُن کے پاس آیا اور ہوا تھم گئی اور وہ اپنے دِل میں نِہایت حَیران ہُوئے۔ اِس لِئے کہ وہ روٹِیوں کے بارے میں نہ سمجھے تھے بلکہ اُن کے دِل سخت ہو گئے تھے [انجیل بروایت مرقس، باب: ٦، آیت: ٥٢]۔¹² 

یوحنّا کی روایت ملاحظہ ہو

پِھر جب شام ہُوئی تو اُس کے شاگِرد جِھیل کے کنارے گئے۔ اور کشتی میں بَیٹھ کر جِھیل کے پار کَفرؔنحُوم کو چلے جاتے تھے۔ اُس وقت اندھیرا ہو گیا تھا اور یِسُوعؔ ابھی تک اُن کے پاس نہ آیا تھا۔ اور آندھی کے سبب سے جِھیل میں مَوجیں اُٹھنے لگِیں۔ پس جب وہ کھیتے کھیتے تِین چار مِیل کے قرِیب نِکل گئے تو اُنہوں نے یِسُوعؔ کو جِھیل پر چلتے اور کشتی کے نزدِیک آتے دیکھا اور ڈر گئے۔ مگر اُس نے اُن سے کہا مَیں ہُوں۔ ڈرو مت۔ پس وہ اُسے کشتی میں چڑھا لینے کو راضی ہُوئے اور فورًا وہ کشتی اُس جگہ جا پُہنچی جہاں وہ جاتے تھے [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ٦، آیت ١٦ تا ٢١]۔¹³ 

مندرجہ بالا دونوں روایات متی کی روایت سے بالکل الگ ہیں ان میں پطرس کے ایمان کی کمزوری کا کوئی واقعہ سرے سے درج نہیں ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کا پطرس کے سر اور پیر دھونا



یِسُوعؔ نے یہ جان کر کہ باپ نے سب چِیزیں میرے ہاتھ میں کر دی ہیں اور مَیں خُدا کے پاس سے آیا اور خُدا ہی کے پاس جاتا ہُوں۔ دسترخوان سے اُٹھ کر کپڑے اُتارے اور رُومال لے کر اپنی کمر میں باندھا۔ اِس کے بعد برتن میں پانی ڈال کر شاگِردوں کے پاؤں دھونے اور جو رُومال کمر میں بندھا تھا اُس سے پونچھنے شرُوع کِئے۔ پِھر وہ شمعُونؔ پطرؔس تک پُہنچا۔ اُس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! کیا تُو میرے پاؤں دھوتا ہے؟ یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا کہ جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔ پطرؔس نے اُس سے کہا کہ تُو میرے پاؤں اَبد تک کبھی دھونے نہ پائے گا۔ یِسُوعؔ نے اُسے جواب دِیا کہ اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں۔ شمعُونؔ پطرس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! صِرف میرے پاؤں ہی نہیں بلکہ ہاتھ اور سر بھی دھو دے۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جو نہا چُکا ہے اُس کو پاؤں کے سِوا اَور کُچھ دھونے کی حاجت نہیں بلکہ سراسر پاک ہے اور تُم پاک ہو لیکن سب کے سب نہیں [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ۱۳، آیت ۳ تا ۱۱]۔¹⁴ 

پطرس کی ملامت 

متی ایک روایت کرتے ہیں ملاحظہ ہو

اُس وقت سے یِسُوعؔ اپنے شاگِردوں پر ظاہِر کرنے لگا کہ اُسے ضرُور ہے کہ یروشلِیمؔ کو جائے اور بُزُرگوں اور سردار کاہِنوں اور فقِیہوں کی طرف سے بُہت دُکھ اُٹھائے اور قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔ اِس پر پطرسؔ اُس کو الگ لے جا کر ملامت کرنے لگا کہ اَے خُداوند خُدا نہ کرے۔ یہ تُجھ پر ہرگِز نہیں آنے کا۔ اُس نے پِھر کر پطرسؔ سے کہا اَے شَیطان! میرے سامنے سے دُور ہو۔ تُو میرے لِئے ٹھوکر کا باعِث ہے کیونکہ تُو خُدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمِیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے [انجیل بروایت متی، باب: ١٦، آیت ٢١ تا ٢٣]۔¹⁵ 

مرقس کی روایت یہ ہے

پِھر وہ اُن کو تعلِیم دینے لگا کہ ضرُور ہے کہ اِبنِ آدمؔ بُہت دُکھ اُٹھائے اور بزُرگ اور سردار کاہِن اور فقِیہہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِین دِن کے بعد جی اُٹھے۔ اور اُس نے یہ بات صاف صاف کہی۔ پطرؔس اُسے الگ لے جا کر اُسے ملامت کرنے لگا۔ مگر اُس نے مُڑ کر اپنے شاگِردوں پر نِگاہ کر کے پطرؔس کو ملامت کی اور کہا اَے شَیطان میرے سامنے سے دُور ہو کیونکہ تُو خُدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمِیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے [انجیل بروایت مرقس، باب: ۸، آیت: ۳۱ تا ۳۳]۔¹⁶ 

جب کہ لوقا کی روایت نہایت مختصر ہے دیکھیں 

اور کہا ضرُور ہے کہ اِبنِ آدمؔ بُہت دُکھ اُٹھائے اور بزُرگ اور سردار کاہِن اور فقِیہہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھے [انجیل بروایت لوقا، باب: ۹، آیت: ۲۲]۔¹⁷ 

لوقا اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس ملامت اور شیطان کہلوانے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔

سُستی


اس متعلق متی نے لکھا ہے کہ 

پِھر شاگِردوں کے پاس آ کر اُن کو سوتے پایا اور پطرسؔ سے کہا کیا تُم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے؟ جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔ رُوح تو مُستعِد ہے مگر جِسم کمزور ہے [انجیل بروایت متی، باب: ٢٦، آیت ٤٠ تا ٤١]۔¹⁸ 

مرقس اس کو یوں لکھتے ہیں

پِھر وہ آیا اور اُنہیں سوتے پا کر پطرؔس سے کہا اَے شمعُونؔ تُو سوتا ہے؟ کیا تُو ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکا؟ جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔ رُوح تو مُستعِد ہے مگر جِسم کمزور ہے۔ وہ پِھر چلا گیا اور وُہی بات کہہ کر دُعا کی۔ اور پِھر آ کر اُنہیں سوتے پایا کیونکہ اُن کی آنکھیں نِیند سے بھری تِھیں اور وہ نہ جانتے تھے کہ اُسے کیا جواب دیں[انجیل بروایت مرقس، باب: ١٤، آیت: ٤٠ تا ٤١]۔¹⁹ 

پطرس کا حملہ


حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری پر شمعون یا پطرس کا اشتعال میں آکر سردار کاہِن کے غلام پر حملے کا ایک ذکر ملتا ہے چنانچہ متی کی روایت یوں ہے

اور دیکھو یِسُوعؔ کے ساتِھیوں میں سے ایک نے ہاتھ بڑھا کر اپنی تلوار کھینچی اور سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا کان اُڑا دِیا۔ یِسُوع نے اُس سے کہا اپنی تلوار کو مِیان میں کر لے کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کِئے جائیں گے [انجیل بروایت متی، باب: ٢٦، آیت: ٥١ تا ٥٢]۔²⁰ 

اس روایت میں پطرس کا نام نہیں لیا گیا۔ مرقس کہتے ہیں

اُن میں سے جو پاس کھڑے تھے ایک نے تلوار کھینچ کر سردار کاہِن کے نَوکر پر چلائی اور اُس کا کان اُڑا دِیا [انجیل بروایت مرقس، باب: ١٤، آیت ٤٧]۔²¹ 

اس روایت میں مرقس نے بھی پطرس کا نام نہیں لیا۔ لوقا لکھتے ہیں

جب اُس کے ساتِھیوں نے معلُوم کِیا کہ کیا ہونے والا ہے تو کہا اَے خُداوند کیا ہم تلوار چلائیں؟ اور اُن میں سے ایک نے سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا [انجیل بروایت لوقا، باب: ۲۲، آیت ٤٩ تا ٥١]۔²² 

لوقا نے بھی پطرس کا نام نہیں لیا۔ البتہ یوحنّا لکھتے ہیں

پس شمعُونؔ پطرس نے تلوار جو اُس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا۔ اُس نَوکر کا نام ملخُس تھا [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ۱۸، آیت ۱۰]۔²³ 
یعنی اگر یوحنّا ہمیں آگاہ نہیں کرتے تو یہ حملہ کس نے کیا تھا گمنام شخص کے نام ہوجاتا۔

پطرس کا انکار

اس متعلق ہمیں جو روایات ملتی ہیں وہ یوں ہیں

پطرسؔ نے جواب میں اُس سے کہا گو سب تیری بابت ٹھوکر کھائیں لیکن مَیں کبھی ٹھوکر نہ کھاؤں گا۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ اِسی رات مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔ پطرس نے اُس سے کہا اگر تیرے ساتھ مُجھے مرنا بھی پڑے تَو بھی تیرا اِنکار ہرگِز نہ کرُوں گا اور سب شاگِردوں نے بھی اِسی طرح کہا [انجیل بروایت متی، باب: ٢٦، ۳۳ تا ٣٥]۔²⁴ 

کچھ آگے جاکر لکھا ہے کہ

اور پطرسؔ باہر صحن میں بَیٹھا تھا کہ ایک لَونڈی نے اُس کے پاس آ کر کہا تُو بھی یِسُوعؔ گلِیلی کے ساتھ تھا۔ اُس نے سب کے سامنے یہ کہہ کر اِنکار کِیا کہ مَیں نہیں جانتا تُو کیا کہتی ہے۔ اور جب وہ ڈیوڑھی میں چلا گیا تو دُوسری نے اُسے دیکھا اور جو وہاں تھے اُن سے کہا یہ بھی یِسُوعؔ ناصری کے ساتھ تھا۔ اُس نے قَسم کھا کر پِھر اِنکار کِیا کہ مَیں اِس آدمی کو نہیں جانتا۔ تھوڑی دیر کے بعد جو وہاں کھڑے تھے اُنہوں نے پطرس کے پاس آ کر کہا بے شک تُو بھی اُن میں سے ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی ظاہِر ہوتا ہے۔ اِس پر وہ لَعنت کرنے اور قَسم کھانے لگا کہ مَیں اِس آدمی کو نہیں جانتا اور فی الفَور مُرغ نے بانگ دی۔ پطرسؔ کو یِسُوعؔ کی وہ بات یاد آئی جو اُس نے کہی تھی کہ مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا اور وہ باہر جا کر زار زار رویا [انجیل بروایت متی، باب: ٢٦، آیت ٦٩ تا ٧٥]۔²⁵ 

مرقس کی روایت یوں ہے

پطرؔس نے اُس سے کہا گو سب ٹھوکر کھائیں لیکن مَیں نہ کھاؤں گا۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ تُو آج اِسی رات مُرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔ لیکن اُس نے بُہت زور دے کر کہا اگر تیرے ساتھ مُجھے مَرنا بھی پڑے تَو بھی تیرا اِنکار ہرگِز نہ کرُوں گا۔ اِسی طرح اَور سب نے بھی کہا [انجیل بروایت مرقس، باب: ١٤، آیت: ۲۹ تا ۳۱]۔²⁶ 

کچھ آگے جاکر لکھا ہے

جب پطرؔس نِیچے صحن میں تھا تو سردار کاہِن کی لَونڈِیوں میں سے ایک وہاں آئی۔ اور پطرؔس کو آگ تاپتے دیکھ کر اُس پر نظر کی اور کہنے لگی تُو بھی اُس ناصری یِسُوعؔ کے ساتھ تھا۔ اُس نے اِنکار کِیا اور کہا کہ مَیں تو نہ جانتا اور نہ سمجھتا ہُوں کہ تُو کیا کہتی ہے۔ پِھر وہ باہر ڈیوڑھی میں گیا اور مُرغ نے بانگ دی۔ وہ لَونڈی اُسے دیکھ کر اُن سے جو پاس کھڑے تھے پِھر کہنے لگی یہ اُن میں سے ہے۔ مگر اُس نے پِھر اِنکار کِیا اور تھوڑی دیر بعد اُنہوں نے جو پاس کھڑے تھے پطرؔس سے پِھر کہا بےشک تُو اُن میں سے ہے کیونکہ تُو گلِیلی بھی ہے۔ مگر وہ لَعنت کرنے اور قَسم کھانے لگا کہ مَیں اِس آدمی کو جِس کا تُم ذِکر کرتے ہو نہیں جانتا۔ اور فی الفَور مُرغ نے دُوسری بار بانگ دی۔ پطرؔس کو وہ بات جو یِسُوعؔ نے اُس سے کہی تھی یاد آئی کہ مُرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا اور اُس پر غَور کر کے وہ رو پڑا [انجیل بروایت مرقس، باب: ١٤، آیت: ٦٦ تا ٧٢]۔²⁷ 

لوقا اس کو اور انداز میں لکھتے ہیں، دیکھو

شمعُون! شمعُونؔ! دیکھ شَیطان نے تُم لوگوں کو مانگ لِیا تاکہ گیہُوں کی طرح پھٹکے۔ لیکن مَیں نے تیرے لِئے دُعا کی کہ تیرا اِیمان جاتا نہ رہے اور جب تُو رجُوع کرے تو اپنے بھائِیوں کو مضبُوط کرنا۔ اُس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! تیرے ساتھ مَیں قَید ہونے بلکہ مَرنے کو بھی تیّار ہُوں۔ اُس نے کہا اَے پطرؔس مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ آج مُرغ بانگ نہ دے گا جب تک تُو تِین بار میرا اِنکار نہ کرے کہ مُجھے نہیں جانتا [انجیل بروایت لوقا، باب: ۲۲، آیت ٣١ تا ٣٤]۔²⁸ 

کچھ آگے جاکر لکھتے ہیں

پِھر وہ اُسے پکڑ کر لے چلے اور سردار کاہِن کے گھر میں لے گئے اور پطرؔس فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے جاتا تھا۔ اور جب اُنہوں نے صحن کے بِیچ میں آگ جلائی اور مِل کر بَیٹھے تو پطرؔس اُن کے بِیچ میں بَیٹھ گیا۔ ایک لَونڈی نے اُسے آگ کی رَوشنی میں بَیٹھا ہُؤا دیکھ کر اُس پر خُوب نِگاہ کی اور کہا یہ بھی اُس کے ساتھ تھا۔ مگر اُس نے یہ کہہ کر اِنکار کِیا کہ اَے عَورت مَیں اُسے نہیں جانتا۔ تھوڑی دیر کے بعد کوئی اَور اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ تُو بھی اُن ہی میں سے ہے۔ پطرؔس نے کہا مِیاں مَیں نہیں ہُوں۔ کوئی گھنٹے بھر کے بعد ایک اور شخص یقِینی طَور سے کہنے لگا کہ یہ آدمی بےشک اُس کے ساتھ تھا کیونکہ گلِیلی ہے۔ پطرؔس نے کہا مِیاں مَیں نہیں جانتا تُو کیا کہتا ہے۔ وہ کہہ ہی رہا تھا کہ اُسی دَم مُرغ نے بانگ دی۔ اور خُداوند نے پِھر کر پطرؔس کی طرف دیکھا اور پطرؔس کو خُداوند کی وہ بات یاد آئی جو اُس سے کہی تھی کہ آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔ اور وہ باہر جا کر زار زار رویا [انجیل بروایت لوقا، باب: ٢٢، آیت ٥٤ تا ٦٢]۔²⁹ 

جب کہ یوحنّا اس کو یوں لکھتے ہیں

پطرؔس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! مَیں تیرے پِیچھے اب کیوں نہیں آ سکتا؟ مَیں تو تیرے لِئے اپنی جان دُوں گا۔ یِسُوع نے جواب دِیا کیا تُو میرے لِئے اپنی جان دے گا؟ مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ مُرغ بانگ نہ دے گا جب تک تُو تِین بار میرا اِنکار نہ کر لے گا [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ۱۳، آیت ۳٧ تا ٣٨]۔³⁰ 

آگے لکھتے ہیں

اُس لَونڈی نے جو دربان تھی پطرؔس سے کہا کیا تُو بھی اِس شخص کے شاگِردوں میں سے ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہُوں۔ نَوکر اور پیادے جاڑے کے سبب سے کوئِلے دہکا کر کھڑے تاپ رہے تھے اور پطرؔس بھی اُن کے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ۱۸، آیت ١٧ تا ١٨]۔³¹ 

ان متفقہ روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پطرس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کردیا تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خالی قبر

اگرچہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر قتل نہیں کیا گیا مگر انجیل کی روایات جو ہمیں ملی ہیں ان پر آپ علیہ السلام کے متعلق قتل اور پھر زندہ ہو اٹھنے کا دعویٰ ہے ہم ان روایات کو صرف پطرس کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ مرقس لکھتے ہیں کہ فرشتے نے پطرس کا خصوصی تذکرہ کیا تھا کہ مسیحؑ کے واپس زندہ ہونے کی خبر اس کو دی جائے۔ دیکھیں
اور قبر کے اندر جا کر اُنہوں نے ایک جوان کو سفید جامہ پہنے ہُوئے دہنی طرف بَیٹھے دیکھا اور نِہایت حَیران ہُوئِیں۔ اُس نے اُن سے کہا اَیسی حَیران نہ ہو۔ تُم یِسُوعؔ ناصری کو جو مصلُوب ہُؤا تھا ڈُھونڈتی ہو۔ وہ جی اُٹھا ہے۔ وہ یہاں نہیں ہے۔ دیکھو یہ وہ جگہ ہے جہاں اُنہوں نے اُسے رکھّا تھا۔ لیکن تُم جا کر اُس کے شاگِردوں اور پطرؔس سے کہو کہ وہ تُم سے پہلے گلِیل کو جائے گا۔ تُم وہِیں اُسے دیکھو گے جَیسا اُس نے تُم سے کہا [انجیل بروایت مرقس، باب: ١٦، آيت ٥ تا ٧]۔
جب کہ یوحنّا کسی فرشتے کے تذکرے والے واقعہ سے بےخبر لکھتے ہیں کہ
ہفتہ کے پہلے دِن مریمؔ مگدلِینی اَیسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی اور پتّھر کو قبر سے ہٹا ہُؤا دیکھا۔ پس وہ شمعُونؔ پطرس اور اُس دُوسرے شاگِرد کے پاس جِسے یِسُوعؔ عزِیز رکھتا تھا دَوڑی ہُوئی گئی اور اُن سے کہا کہ خُداوند کو قبر سے نِکال لے گئے اور ہمیں معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھ دِیا۔ پس پطرؔس اور وہ دُوسرا شاگِرد نِکل کر قبر کی طرف چلے۔ اور دونوں ساتھ ساتھ دَوڑے مگر وہ دُوسرا شاگِرد پطرؔس سے آگے بڑھ کر قبر پر پہلے پُہنچا۔ اُس نے جُھک کر نظر کی اور سُوتی کپڑے پڑے ہُوئے دیکھے مگر اندر نہ گیا شمعُونؔ پطرس اُس کے پِیچھے پِیچھے پُہنچا اور اُس نے قبر کے اندر جا کر دیکھا کہ سُوتی کپڑے پڑے ہیں۔ اور وہ رُومال جو اُس کے سر سے بندھا ہُؤا تھا سُوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لِپٹا ہُؤا ایک جگہ اَلگ پڑا ہے۔ اِس پر دُوسرا شاگِرد بھی جو پہلے قبر پر آیا تھا اندر گیا اور اُس نے دیکھ کر یقِین کِیا۔ کیونکہ وہ اب تک اُس نوِشتہ کو نہ جانتے تھے جِس کے مُطابِق اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرُور تھا [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ٢٠، آیت ۱ تا ۱۰]۔³³ 

عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زندہ ہونے کی خبر لوقا بشہادت پطرس لکھتے ہیں، دیکھیں

وہ کہہ رہے تھے کہ خُداوند بے شک جی اُٹھا اور شمعُونؔ کو دِکھائی دِیا ہے [انجیل بروایت لوقا، باب: ٢٤، آيت ٣٤]۔³⁴ 

پولس نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوئے اور کیفا یعنی شمعون یا پطرس کو دکھائی دئیے تھے، دیکھو

اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دِکھائی دِیا [کُرِنتھِیوں کے نام پہلا خط، باب ١٥ آیت ٥]۔³⁵ 

عیسیٰ علیہ السلام اور پطرس

اور جب کھانا کھا چُکے تو یِسُوعؔ نے شمعُونؔ پطرس سے کہا اَے شمعُونؔ یُوحنّا کے بیٹے کیا تُو اِن سے زِیادہ مُجھ سے مُحبّت رکھتا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا ہاں خُداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھے عزِیز رکھتا ہُوں۔ اُس نے اُس سے کہا۔ تو میرے برّے چرا۔ اُس نے دوبارہ اُس سے پِھر کہا اَے شمعُون یُوحنّا کے بیٹے کیا تُو مُجھ سے مُحبّت رکھتا ہے؟ اُس نے کہا ہاں خُداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھ کو عزِیز رکھتا ہُوں۔ اُس نے اُس سے کہا تُو میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر۔ اُس نے تِیسری بار اُس سے کہا اَے شمعُونؔ یُوحنّا کے بیٹے کیا تُو مُجھے عزِیز رکھتا ہے؟ چُونکہ اُس نے تِیسری بار اُس سے کہا کیا تُو مُجھے عزِیز رکھتا ہے اِس سبب سے پطرؔس نے دِل گِیر ہو کر اُس سے کہا اَے خُداوند! تُو تو سب کُچھ جانتا ہے۔ تُجھے معلُوم ہی ہے کہ مَیں تُجھے عزِیز رکھتا ہُوں۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا تو میری بھیڑیں چرا۔ مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تُو جوان تھا تو آپ ہی اپنی کمر باندھتا تھا اور جہاں چاہتا تھا پِھرتا تھا مگر جب تُو بُوڑھا ہو گا تو اپنے ہاتھ لمبے کرے گا اور دُوسرا شخص تیری کمر باندھے گا اور جہاں تُو نہ چاہے گا وہاں تُجھے لے جائے گا۔ اُس نے اِن باتوں سے اِشارہ کر دِیا کہ وہ کِس طرح کی مَوت سے خُدا کا جلال ظاہِر کرے گا اور یہ کہہ کر اُس سے کہا میرے پِیچھے ہو لے [انجیل بروایت یوحنّا، باب: ۲۱، آیت ١٥ تا ١٩]۔³⁶ 

پطرس کا مسیحیوں سے خطاب

اور اُن ہی دِنوں پطرؔس بھائِیوں میں جو تخمِینًا ایک سَو بِیس شخصوں کی جماعت تھی کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ اَے بھائِیو اُس نوِشتہ کا پُورا ہونا ضرُور تھا جو رُوحُ القُدس نے داؤُد کی زُبانی اُس یہُوداہؔ کے حق میں پہلے سے کہا تھا جو یِسُوع کے پکڑنے والوں کا رہنُما ہُؤا۔ کیونکہ وہ ہم میں شُمار کِیا گیا اور اُس نے اِس خِدمت کا حِصّہ پایا۔ (اُس نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصِل کِیا اور سر کے بَل گِرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑِیاں نِکل پڑِیں۔ اور یہ یروشلِیمؔ کے سب رہنے والوں کو معلُوم ہُؤا۔ یہاں تک کہ اُس کھیت کا نام اُن کی زُبان میں ہَقَل دؔما پڑ گیا یعنی خُون کا کھیت)۔ کیونکہ زبُور میں لِکھا ہے کہ اُس کا گھر اُجڑ جائے اور اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے اور اُس کا عُہدہ دُوسرا لے لے۔ پس جِتنے عرصہ تک خُداوند یِسُوعؔ ہمارے ساتھ آتا جاتا رہا یعنی یُوحنّا کے بپتِسمہ سے لے کر خُداوند کے ہمارے پاس سے اُٹھائے جانے تک جو برابر ہمارے ساتھ رہے۔ چاہئے کہ اُن میں سے ایک مَرد ہمارے ساتھ اُس کے جی اُٹھنے کا گواہ بنے۔ پِھر اُنہوں نے دو کو پیش کِیا۔ ایک یُوسفؔ کو جو برسبّا کہلاتا اور جِس کا لقب یُوؔستُس ہے۔ دُوسرا متّیاؔہ کو۔ اور یہ کہہ کر دُعا کی کہ اَے خُداوند! تُو جو سب کے دِلوں کی جانتا ہے۔ یہ ظاہِر کر کہ اِن دونوں میں سے تُو نے کِس کو چُنا ہے۔ کہ وہ اِس خِدمت اور رِسالت کی جگہ لے جِسے یہُوداہؔ چھوڑ کر اپنی جگہ گیا۔ پِھر اُنہوں نے اُن کے بارے میں قُرعہ ڈالا اور قُرعہ متّیاؔہ کے نام کا نِکلا۔ پس وہ اُن گیارہ رسُولوں کے ساتھ شُمار ہُؤا [رسولوں کے اعمال، باب: ۱، آیت ١٥ تا ٢٦]۔³⁷ 

یوں پطرس نے یہودا کی خالی جگہ کو پُرا کروایا یعنی قائدانہ کردار ادا کیا البتہ یہودا کی موت کے متعلق جو یہاں لکھا ہے وہ متنازعہ ہے۔ پھر آگے روح القدس کے نزول کا لکھا ہے جس کے بعد یہودیوں کے ایک مجمع سے پطرس نے ایک جرائت مندانہ خطاب کیا۔ اس کی تاریخی حیثیت متنازعہ ہے۔ بہر کیف اس کو پڑھ لیں۔

لیکن پطرؔس اُن گیارہ کے ساتھ کھڑا ہُؤا اور اپنی آواز بُلند کر کے لوگوں سے کہا کہ اَے یہُودِیو! اور اَے یروشلِیمؔ کے سب رہنے والو! یہ جان لو اور کان لگا کر میری باتیں سُنو! کہ جَیسا تُم سمجھتے ہو یہ نَشہ میں نہیں کیونکہ اَبھی تو پہر ہی دِن چڑھا ہے۔ بلکہ یہ وہ بات ہے جو یُواؔیل نبی کی معرفت کہی گئی ہے کہ خُدا فرماتا ہے کہ آخِری دِنوں میں اَیسا ہو گا کہ مَیں اپنے رُوح میں سے ہر بشر پر ڈالوں گا اور تُمہارے بیٹے اور تُمہاری بیٹِیاں نبُوّت کریں گی اور تُمہارے جوان رویا اور تُمہارے بُڈّھے خواب دیکھیں گے۔ بلکہ مَیں اپنے بندوں اور اپنی بندِیوں پر بھی اُن دِنوں میں اپنے رُوح میں سے ڈالُوں گا اور وہ نبُوّت کریں گی۔ اور مَیں اُوپر آسمان پر عجِیب کام اور نِیچے زمِین پر نِشانیاں یعنی خُون اور آگ اور دُھوئیں کا بادل دِکھاؤں گا۔ سُورج تارِیک اور چاند خُون ہو جائے گا۔ پیشتر اِس سے کہ خُداوند کا عظِیم اور جلِیل دِن آئے۔ اور یُوں ہو گا کہ جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔ اَے اِسرائیِلیو! یہ باتیں سُنو کہ یِسُوعؔ ناصری ایک شخص تھا جِس کا خُدا کی طرف سے ہونا تُم پر اُن مُعجِزوں اور عجِیب کاموں اور نِشانوں سے ثابِت ہُؤا جو خُدا نے اُس کی معرفت تُم میں دِکھائے۔ چُنانچہ تُم آپ ہی جانتے ہو۔ جب وہ خُدا کے مُقرّرہ اِنتِظام اور عِلمِ سابِق کے مُوافِق پکڑوایا گیا تو تُم نے بے شرع لوگوں کے ہاتھ سے اُسے مصلُوب کروا کر مار ڈالا۔ لیکن خُدا نے مَوت کے بَند کھول کر اُسے جِلایا کیونکہ مُمکِن نہ تھا کہ وہ اُس کے قبضہ میں رہتا۔ کیونکہ داؤُد اُس کے حق میں کہتا ہے کہ مَیں خُداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھتا رہا۔ کیونکہ وہ میری دہنی طرف ہے تاکہ مُجھے جُنبِش نہ ہو۔ اِسی سبب سے میرا دِل خُوش ہُؤا اور میری زُبان شاد بلکہ میرا جِسم بھی اُمّید میں بسا رہے گا۔ اِس لِئے کہ تُو میری جان کو عالَمِ اَرواح میں نہ چھوڑے گا اور نہ اپنے مُقدّس کے سڑنے کی نَوبت پُہنچنے دے گا۔ تُو نے مُجھے زِندگی کی راہیں بتائِیں۔ تُو مُجھے اپنے دِیدار کے باعِث خُوشی سے بھر دے گا۔ اَے بھائِیو! مَیں قَوم کے بزُرگ داؤُد کے حق میں تُم سے دِلیری کے ساتھ کہہ سکتا ہُوں کہ وہ مُؤا اور دَفن بھی ہُؤا اور اُس کی قبر آج تک ہم میں مَوجُود ہے۔ پس نبی ہو کر اور یہ جان کر کہ خُدا نے مُجھ سے قَسم کھائی ہے کہ تیری نسل سے ایک شخص کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔ اُس نے پیشِین گوئی کے طَور پر مسِیح کے جی اُٹھنے کا ذِکر کِیا کہ نہ وہ عالَمِ اَرواح میں چھوڑا گیا نہ اُس کے جِسم کے سڑنے کی نَوبت پُہنچی۔ اِسی یِسُوعؔ کو خُدا نے جِلایا جِس کے ہم سب گواہ ہیں۔ پس خُدا کے دہنے ہاتھ سے سر بُلند ہو کر اور باپ سے وہ رُوحُ القُدس حاصِل کر کے جِس کا وعدہ کِیا گیا تھا اُس نے یہ نازِل کِیا جو تُم دیکھتے اور سُنتے ہو۔ کیونکہ داؤُد تو آسمان پر نہیں چڑھا لیکن وہ خُود کہتا ہے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا میری دہنی طرف بَیٹھ۔ جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تَلے کی چَوکی نہ کر دُوں۔ پس اِسرائیلؔ کا سارا گھرانا یقِین جان لے کہ خُدا نے اُسی یِسُوعؔ کو جِسے تُم نے مصلُوب کِیا خُداوند بھی کِیا اور مسِیح بھی۔ جب اُنہوں نے یہ سُنا تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور پطرؔس اور باقی رسُولوں سے کہا کہ اَے بھائِیو! ہم کیا کریں؟ پطرؔس نے اُن سے کہا کہ تَوبہ کرو اور تُم میں سے ہر ایک اپنے گُناہوں کی مُعافی کے لِئے یِسُوعؔ مسِیح کے نام پر بپتِسمہ لے تو تُم رُوحُ القُدس اِنعام میں پاؤ گے۔ اِس لِئے کہ یہ وعدہ تُم اور تُمہاری اَولاد اور اُن سب دُور کے لوگوں سے بھی ہے جِن کو خُداوند ہمارا خُدا اپنے پاس بُلائے گا [رسولوں کے اعمال، باب: ۲، آیت ١٤ تا ٣٩]۔³⁸ 

پطرس کی کرامت

 پطرؔس اور یُوحنّا دُعا کے وقت یعنی تِیسرے پَہر ہَیکل کو جا رہے تھے۔ اور لوگ ایک جنم کے لنگڑے کو لا رہے تھے جِس کو ہر روز ہَیکل کے اُس دروازہ پر بِٹھا دیتے تھے جو خُوب صُورت کہلاتا ہے تاکہ ہَیکل میں جانے والوں سے بِھیک مانگے۔ جب اُس نے پطرؔس اور یُوحنّا کو ہَیکل میں جاتے دیکھا تو اُن سے بِھیک مانگی۔ پطرؔس اور یُوحنّا نے اُس پر غَور سے نظر کی اور پطرؔس نے کہا ہماری طرف دیکھ۔ وہ اُن سے کُچھ مِلنے کی اُمّید پر اُن کی طرف مُتوجہ ہُؤا۔ پطرؔس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تُجھے دِئے دیتا ہُوں۔ یِسُوعؔ مسِیح ناصری کے نام سے چل پِھر۔ اور اُس کا دہنا ہاتھ پکڑ کر اُس کو اُٹھایا اور اُسی دَم اُس کے پاؤں اور ٹخنے مضبُوط ہو گئے۔ اور وہ کُود کر کھڑا ہو گیا اور چلنے پِھرنے لگا اور چلتا اور کُودتا اور خُدا کی حمد کرتا ہُؤا اُن کے ساتھ ہَیکل میں گیا۔ اور سب لوگوں نے اُسے چلتے پِھرتے اور خُدا کی حمد کرتے دیکھ کر۔ اُس کو پہچانا کہ یہ وُہی ہے جو ہَیکل کے خُوب صُورت دروازہ پر بَیٹھا بِھیک مانگا کرتا تھا اور اُس ماجرے سے جو اُس پر واقِع ہُؤا تھا بُہت دَنگ اور حَیران ہُوئے [رسولوں کے اعمال، باب: ۳، آیت ۱ تا ۱۰]۔³⁹ 

 پطرس کی تبلیغی مساعیاں

پطرس نے علماء یہود کی مخالفت مول لی اور اس سلسلے میں تبلیغی مساعی کی ہیکل میں خطاب کیا جو یوں ہے

پطرؔس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اَے اِسرائیِلیو! اِس پر تُم کیوں تعجُّب کرتے ہو اور ہمیں کیوں اِس طرح دیکھ رہے ہو کہ گویا ہم نے اپنی قُدرت یا دِین داری سے اِس شخص کو چلتا پِھرتا کر دِیا؟ ابرہامؔ اور اِضحاقؔ اور یعقُوبؔ کے خُدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اپنے خادِم یِسُوعؔ کو جلال دِیا جِسے تُم نے پکڑوا دِیا اور جب پِیلاطُسؔ نے اُسے چھوڑ دینے کا قصد کِیا تو تُم نے اُس کے سامنے اُس کا اِنکار کِیا۔ تُم نے اُس قُدُّوس اور راست باز کا اِنکار کِیا اور درخواست کی کہ ایک خُونی تُمہاری خاطِر چھوڑ دِیا جائے۔ مگر زِندگی کے مالِک کو قتل کِیا جِسے خُدا نے مُردوں میں سے جِلایا۔ اِس کے ہم گواہ ہیں۔ اُسی کے نام نے اُس اِیمان کے وسِیلہ سے جو اُس کے نام پر ہے اِس شخص کو مضبُوط کِیا جِسے تُم دیکھتے اور جانتے ہو۔ بیشک اُسی اِیمان نے جو اُس کے وسِیلہ سے ہے یہ کامِل تندرُستی تُم سب کے سامنے اُسے دی۔ اور اب اَے بھائِیو! مَیں جانتا ہُوں کہ تُم نے یہ کام نادانی سے کِیا اور اَیسا ہی تُمہارے سرداروں نے بھی۔ مگر جِن باتوں کی خُدا نے سب نبِیوں کی زُبانی پیشتر خبر دی تھی کہ اُس کا مسِیح دُکھ اُٹھائے گا وہ اُس نے اِسی طرح پُوری کِیں۔ پس تَوبہ کرو اور رجُوع لاؤ تاکہ تُمہارے گُناہ مِٹائے جائیں اور اِس طرح خُداوند کے حضُور سے تازِگی کے دِن آئیں۔ اور وہ اُس مسِیح کو جو تُمہارے واسطے مُقرّر ہُؤا ہے یعنی یِسُوعؔ کو بھیجے۔ ضرُور ہے کہ وہ آسمان میں اُس وقت تک رہے جب تک کہ وہ سب چِیزیں بحال نہ کی جائیں جِن کا ذِکر خُدا نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کِیا ہے جو دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں۔ چُنانچہ مُوسیٰؔ نے کہا کہ خُداوند خُدا تُمہارے بھائِیوں میں سے تُمہارے لِئے مُجھ سا ایک نبی پَیدا کرے گا۔ جو کُچھ وہ تُم سے کہے اُس کی سُننا۔ اور یُوں ہو گا کہ جو شخص اُس نبی کی نہ سُنے گا وہ اُمّت میں سے نیست و نابُود کر دِیا جائے گا۔ بلکہ سموئیل سے لے کر پِچھلوں تک جِتنے نبِیوں نے کلام کِیا اُن سب نے اِن دِنوں کی خبر دی ہے۔ تُم نبِیوں کی اَولاد اور اُس عہد کے شرِیک ہو جو خُدا نے تُمہارے باپ دادا سے باندھا جب ابرہامؔ سے کہا کہ تیری اَولاد سے دُنیا کے سب گھرانے برکت پائیں گے۔ خُدا نے اپنے خادِم کو اُٹھا کر پہلے تُمہارے پاس بھیجا تاکہ تُم میں سے ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے ہٹا کر برکت دے [رسولوں کے اعمال، باب: ۳، آیت ١٢ تا ٢٥]۔⁴⁰ 
اگرچہ صدر عدالت میں پیشی کے بعد ان دونوں کو عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے تعلیم دینے سے منع کیا گیا مگر ان کا موقف تھا کہ 
کہا تُم ہی اِنصاف کرو۔ آیا خُدا کے نزدِیک یہ واجِب ہے کہ ہم خُدا کی بات سے تُمہاری بات زِیادہ سُنیں؟ [رسولوں کے اعمال، باب: ٤، آیت ۱۹]۔⁴¹ 

حننیاہ اور سفیرہ

اور ایک شخص حننیاؔہ نام اور اُس کی بِیوی سفِیرؔہ نے جائیداد بیچی۔ اور اُس نے اپنی بِیوی کے جانتے ہُوئے قِیمت میں سے کُچھ رکھ چھوڑا اور ایک حِصّہ لا کر رسُولوں کے پاؤں میں رکھ دِیا۔ مگر پطرؔس نے کہا اَے حننیاؔہ! کیوں شَیطان نے تیرے دِل میں یہ بات ڈال دی کہ تُو رُوحُ القُدس سے جُھوٹ بولے اور زمِین کی قِیمت میں سے کُچھ رکھ چھوڑے؟ کیا جب تک وہ تیرے پاس تھی تیری نہ تھی؟ اور جب بیچی گئی تو تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُو نے کیوں اپنے دِل میں اِس بات کا خیال باندھا؟ تُو نے آدمِیوں سے نہیں بلکہ خُدا سے جُھوٹ بولا۔ یہ باتیں سُنتے ہی حننیاؔہ گِر پڑا اور اُس کا دَم نِکل گیا اور سب سُننے والوں پر بڑا خَوف چھا گیا۔ پِھر جوانوں نے اُٹھ کر اُسے کَفنایا اور باہر لے جا کر دفن کِیا۔ اور قرِیباً تِین گھنٹے گُذر جانے کے بعد اُس کی بِیوی اِس ماجرے سے بے خبر اندر آئی۔ پطرؔس نے اُس سے کہا مُجھے بتا تو۔ کیا تُم نے اِتنے ہی کو زمِین بیچی تھی؟ اُس نے کہا ہاں۔ اِتنے ہی کو۔ پطرس نے اُس سے کہا تُم نے کیوں خُداوند کے رُوح کو آزمانے کے لِئے ایکا کِیا؟ دیکھ تیرے شَوہر کے دفن کرنے والے دروازہ پر کھڑے ہیں اور تُجھے بھی باہر لے جائیں گے۔ وہ اُسی دَم اُس کے قدموں پر گِر پڑی اور اُس کا دَم نِکل گیا اور جوانوں نے اندر آ کر اُسے مُردہ پایا اور باہر لے جا کر اُس کے شَوہر کے پاس دفن کر دِیا [رسولوں کے اعمال، باب: ٥، آیت ۱ تا ۱۱]۔⁴² 

پطرس اور غیریہودی

قَیصرؔیہ میں کُرنِیِلُیس نام ایک شخص تھا۔ وہ اُس پلٹن کا صُوبہ دار تھا جو اطالِیانی کہلاتی ہے۔ وہ دِین دار تھا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خُدا سے ڈرتا تھا اور یہُودِیوں کو بُہت خَیرات دیتا اور ہر وقت خُدا سے دُعا کرتا تھا۔ اُس نے تِیسرے پہر کے قرِیب رویا میں صاف صاف دیکھا کہ خُدا کا فرِشتہ میرے پاس آ کر کہتا ہے کُرنِیلِیُس۔ اُس نے اُس کو غَور سے دیکھا اور ڈر کر کہا خُداوند کیا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا تیری دُعائیں اور تیری خَیرات یادگاری کے لِئے خُدا کے حُضُور پُہنچِیں۔ اب یافا میں آدمی بھیج کر شمعُون کو جو پطرؔس کہلاتا ہے بُلوا لے۔ وہ شمعُونؔ دبّاغ کے ہاں مِہمان ہے جِس کا گھر سمُندر کے کنارے ہے۔ اور جب وہ فرِشتہ چلا گیا جِس نے اُس سے باتیں کی تِھیں تو اُس نے دو نَوکروں کو اور اُن میں سے جو اُس کے پاس حاضِر رہا کرتے تھے ایک دِین دار سِپاہی کو بُلایا۔ اور سب باتیں اُن سے بیان کر کے اُنہیں یافا میں بھیجا۔ دُوسرے دِن جب وہ راہ میں تھے اور شہر کے نزدِیک پُہنچے تو پطرؔس دوپہر کے قرِیب کوٹھے پر دُعا کرنے کو چڑھا۔ اور اُسے بُھوک لگی اور کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکن جب لوگ تیّار کر رہے تھے تو اُس پر بے خُودی چھا گئی۔ اور اُس نے دیکھا کہ آسمان کُھل گیا اور ایک چِیز بڑی چادر کی مانِند چاروں کونوں سے لٹکتی ہُوئی زمِین کی طرف اُتر رہی ہے۔ جِس میں زمِین کے سب قِسم کے چَوپائے اور کِیڑے مکَوڑے اور ہوا کے پرِندے ہیں۔ اور اُسے ایک آواز آئی کہ اَے پطرؔس اُٹھ! ذبح کر اور کھا۔ مگر پطرؔس نے کہا اَے خُداوند! ہرگِز نہیں کیونکہ مَیں نے کبھی کوئی حرام یا ناپاک چِیز نہیں کھائی۔ پِھر دُوسری بار اُسے آواز آئی کہ جِن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنہیں حرام نہ کہہ۔ تِین بار اَیسا ہی ہُؤا اور فی الفَور وہ چِیز آسمان پر اُٹھا لی گئی۔ جب پطرؔس اپنے دِل میں حَیران ہو رہا تھا کہ یہ رویا جو مَیں نے دیکھی کیا ہے تو دیکھو وہ آدمی جِنہیں کُرنِیلِیُس نے بھیجا تھا شمعُونؔ کا گھر دریافت کر کے دروازہ پر آ کھڑے ہُوئے۔ اور پُکار کر پُوچھنے لگے کہ شمعُونؔ جو پطرؔس کہلاتا ہے یہِیں مِہمان ہے؟ جب پطرؔس اُس رویا کو سوچ رہا تھا تو رُوح نے اُس سے کہا کہ دیکھ تِین آدمی تُجھے پُوچھ رہے ہیں۔ پس اُٹھ کر نِیچے جا اور بے کھٹکے اُن کے ساتھ ہو لے کیونکہ مَیں نے ہی اُن کو بھیجا ہے۔ پطرؔس نے اُتر کر اُن آدمِیوں سے کہا دیکھو جِس کو تُم پُوچھتے ہو وہ مَیں ہی ہُوں۔ تُم کِس سبب سے آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا کُرنِیلِیُس صُوبہ دار جو راست باز اور خُدا ترس آدمی اور یہُودِیوں کی ساری قَوم میں نیک نام ہے اُس نے پاک فرِشتہ سے ہدایت پائی کہ تُجھے اپنے گھر بُلا کر تُجھ سے کلام سُنے۔ پس اُس نے اُنہیں اندر بُلا کر اُن کی مِہمانی کی۔ اور دُوسرے دِن وہ اُٹھ کر اُن کے ساتھ روانہ ہُؤا اور یافا میں سے بعض بھائی اُس کے ساتھ ہو لِئے۔ وہ دُوسرے روز قَیصرؔیہ میں داخِل ہُوئے اور کُرنِیلِیُس اپنے رِشتہ داروں اور دِلی دوستوں کو جمع کر کے اُن کی راہ دیکھ رہا تھا۔ جب پطرؔس اندر آنے لگا تو اَیسا ہُؤا کہ کُرنِیلِیُس نے اُس کا اِستِقبال کِیا اور اُس کے قَدموں میں گِر کر سِجدہ کِیا۔ لیکن پطرس نے اُسے اُٹھا کر کہا کہ کھڑا ہو۔ مَیں بھی تو اِنسان ہُوں۔ اور اُس سے باتیں کرتا ہُؤا اندر گیا اور بُہت سے لوگوں کو اِکٹّھا پا کر۔ اُن سے کہا تُم تو جانتے ہو کہ یہُودی کو غَیر قَوم والے سے صُحبت رکھنا یا اُس کے ہاں جانا ناجائِز ہے مگر خُدا نے مُجھ پر ظاہِر کِیا کہ مَیں کِسی آدمی کو نجِس یا ناپاک نہ کہُوں۔ اِسی لِئے جب مَیں بُلایا گیا تو بے عُذر چلا آیا۔ پس اب مَیں پُوچھتا ہُوں کہ مُجھے کس بات کے لِئے بُلایا ہے؟ کُرنِیلِیُس نے کہا اِس وقت پُورے چار روز ہُوئے کہ مَیں اپنے گھر میں تِیسرے پہر کی دُعا کر رہا تھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص چمک دار پَوشاک پہنے ہُوئے میرے سامنے کھڑا ہُؤا۔ اور کہا کہ اَے کُرنِیلِیُس تیری دُعا سُن لی گئی اور تیری خَیرات کی خُدا کے حضُور یاد ہُوئی۔ پس کِسی کو یافا میں بھیج کر شمعُونؔ کو جو پطرؔس کہلاتا ہے اپنے پاس بُلا۔ وہ سمُندر کے کنارے شمعُونؔ دبّاغ کے گھر میں مِہمان ہے۔ پس اُسی دَم مَیں نے تیرے پاس آدمی بھیجے اور تُو نے خُوب کِیا جو آ گیا۔ اب ہم سب خُدا کے حضُور حاضِر ہیں تاکہ جو کُچھ خُداوند نے تُجھ سے فرمایا ہے اُسے سُنیں۔ پطرؔس نے زُبان کھول کر کہا۔ اب مُجھے پُورا یقِین ہو گیا کہ خُدا کِسی کا طرف دار نہیں۔ بلکہ ہر قَوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راست بازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔ جو کلام اُس نے بنی اِسرائیل کے پاس بھیجا جب کہ یِسُوعؔ مسِیح کی معرفت )جو سب کا خُداوند ہے( صُلح کی خُوشخبری دی۔ اُس بات کو تُم جانتے ہو جو یُوحنّا کے بپتِسمہ کی مُنادی کے بعد گلِیل سے شرُوع ہو کر تمام یہُودیہ میں مشہُور ہو گئی۔ کہ خُدا نے یِسُوعؔ ناصری کو رُوحُ القُدس اور قُدرت سے کِس طرح مَسح کِیا۔ وہ بھلائی کرتا اور اُن سب کو جو اِبلِیس کے ہاتھ سے ظُلم اُٹھاتے تھے شِفا دیتا پِھرا کیونکہ خُدا اُس کے ساتھ تھا۔ اور ہم اُن سب کاموں کے گواہ ہیں جو اُس نے یہُودِیوں کے مُلک اور یروشلِیمؔ میں کِئے اور اُنہوں نے اُس کو صلِیب پر لٹکا کر مار ڈالا۔ اُس کو خُدا نے تِیسرے دِن جِلایا اور ظاہِر بھی کر دِیا۔ نہ کہ ساری اُمّت پر بلکہ اُن گواہوں پر جو آگے سے خُدا کے چُنے ہُوئے تھے یعنی ہم پر جِنہوں نے اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُس کے ساتھ کھایا پِیا۔ اور اُس نے ہمیں حُکم دِیا کہ اُمّت میں مُنادی کرو اور گواہی دو کہ یہ وُہی ہے جو خُدا کی طرف سے زِندوں اور مُردوں کا مُنصِف مُقرّر کِیا گیا۔ اِس شخص کی سب نبی گواہی دیتے ہیں کہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے گا اُس کے نام سے گُناہوں کی مُعافی حاصِل کرے گا۔ پطرؔس یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ رُوحُ القُدس اُن سب پر نازِل ہُؤا جو کلام سُن رہے تھے۔ اور پطرؔس کے ساتھ جِتنے مختُون اِیمان دار آئے تھے وہ سب حَیران ہُوئے کہ غَیر قَوموں پر بھی رُوحُ القُدس کی بخشِش جاری ہُوئی۔ کیونکہ اُنہیں طرح طرح کی زُبانیں بولتے اور خُدا کی تمجِید کرتے سُنا۔ پطرؔس نے جواب دِیا۔ کیا کوئی پانی سے روک سکتا ہے کہ یہ بپتِسمہ نہ پائیں جِنہوں نے ہماری طرح رُوحُ القُدس پایا؟ اور اُس نے حُکم دِیا کہ اُنہیں یِسُوعؔ مسِیح کے نام سے بپتِسمہ دِیا جائے۔ اِس پر اُنہوں نے اُس سے درخواست کی کہ چند روز ہمارے پاس رہ۔ [رسولوں کے اعمال، باب: ۱۰، آیت: ۱ تا ٤٨
]۔⁴³ 
پطرس کے ایامِ آخر اور موت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد، پطرس نے اپنی زندگی کا باقی حصہ مسیحی خوشخبری کی تبلیغ اور کلیسیا کی رہنمائی میں گزارا، جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے یوحنا ۲۱:۱۸ میں پیش گوئی کی تھی
١. یروشلم سے باہر تبلیغ
 ابتدائی مرکز: اعمال کی کتاب کے ابتدائی ابواب میں، پطرس کا مرکز یروشلم اور آس پاس کا علاقہ (جیسے لدّا اور یافا) رہا، جہاں وہ یہودیوں اور غیر یہودی کرنیلیئس کو منادی کر رہے تھے۔
سفر: اعمال ١٢ باب میں ہیرودیس کے ہاتھوں قید ہونے اور معجزاتی طور پر رہائی پانے کے بعد، حضرت پطرس نے یروشلم چھوڑ دیا اور مبینہ طور پر دیگر علاقوں کا سفر کیا، جن میں شام کا انطاکیہ شامل ہے۔
 بائبل کے بعد کی تاریخ: بائبل (رسولوں کے اعمال) کے بعد کی ابتدائی مسیحی روایات کے مطابق، حضرت پطرس نے اپنے آخری ایام میں روم کا سفر کیا، جو اُس وقت کی دنیا کا سب سے بڑا سیاسی مرکز تھا۔
٢. روم میں قیام اور خطوط
 رومی کلیسیا: یہ ایک مقبول روایت ہے کہ حضرت پطرس نے روم کی مسیحی کلیسیا کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا، جہاں سے انہوں نے نئے ایمانداروں کی رہنمائی کی۔
 خطوط: عہد نامہ جدید کی دو کتابیں، پہلا پطرس اور دوسرا پطرس، حضرت پطرس سے منسوب ہیں اور غالباً رومی سلطنت میں موجود مسیحیوں کو تسلی اور تعلیم دینے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ (بعض لوگ "بابل" کا ذکر روم کے استعارے کے طور پر لیتے ہیں۔)
٣. شہادت (شہید ہونا)
  ظلم کا دور: حضرت پطرس کی شہادت رومن شہنشاہ نیرو کے دور میں ہوئی، جو مسیحیوں پر ظلم و ستم کے لیے مشہور تھا۔ یہ واقعہ عام طور پر 64ء کے لگ بھگ روم کی عظیم آتش زدگی کے بعد پیش آیا۔
 موت کی نوعیت: روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ انہیں سولی دی گئی تھی۔ یہ بات حضرت عیسیٰ کی اس پیش گوئی کو پورا کرتی ہے جو انہوں نے پطرس کے لیے یوحنا ٢١:١٨ میں کی تھی: "جب تو بوڑھا ہو گا تو اپنے ہاتھ پھیلائے گا اور دوسرا تیری کمر باندھ کر جہاں تو نہ چاہے گا لے جائے گا..."
 الٹی سولی کی روایت: مشہور روایت یہ ہے کہ جب انہیں سولی کے لیے لایا گیا، تو حضرت پطرس نے عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ انہیں الٹا سولی دیا جائے، کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ اپنے محبوب حضرت عیسیٰؑ کی طرح سولی پر مریں۔ 
 مدفن: روایت کے مطابق، انہیں ویٹیکن ہل پر دفن کیا گیا، جس جگہ آج سینٹ پیٹرز باسیلیکا تعمیر ہے۔
اس طرح، پطرس کی زندگی کا اختتام اُن کی ابتدائی وفاداری کے دعووں کی تصدیق میں ہوا، جنہوں نے خوف کو شکست دی اور مسیح کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ میں نے بہت محنت سے اصل متون کے ساتھ حوالہ جات لگا دئیے ہیں۔ ان کی تاریخی اہمیّت کیا ہے؟ اس پر ہم بعد میں بات کریں گے ظاہر ہے جیسا یہ سب بیان ہوا ہے علم تاریخ اس کی تائید نہیں کرتا۔ 

1. Τῇ ἐπαύριον πάλιν εἱστήκει ὁ Ἰωάννης, καὶ ἐκ τῶν μαθητῶν αὐτοῦ δύο. καὶ ἐμβλέψας τῷ Ἰησοῦ περιπατοῦντι, λέγει, Ἴδε ὁ Ἀμνὸς τοῦ Θεοῦ! καὶ ἤκουσαν οἱ δύο μαθηταὶ αὐτοῦ λαλοῦντος, καὶ ἠκολούθησαν τῷ Ἰησοῦ. στραφεὶς δὲ ὁ Ἰησοῦς, καὶ θεασάμενος αὐτοὺς ἀκολουθοῦντας, λέγει αὐτοῖς, Τί ζητεῖτε? οἱ δὲ εἶπαν αὐτῷ, Ῥαββί --  ὃ λέγεται μεθερμηνευόμενον, Διδάσκαλε --  ποῦ μένεις? λέγει αὐτοῖς, Ἔρχεσθε καὶ ὄψεσθε. ἦλθαν οὖν καὶ εἶδαν ποῦ μένει; καὶ παρ’ αὐτῷ ἔμειναν τὴν ἡμέραν ἐκείνην. ὥρα ἦν ὡς δεκάτη. Ἦν Ἀνδρέας, ὁ ἀδελφὸς Σίμωνος Πέτρου, εἷς ἐκ τῶν δύο τῶν ἀκουσάντων παρὰ Ἰωάννου, καὶ ἀκολουθησάντων αὐτῷ. εὑρίσκει οὗτος πρῶτον τὸν ἀδελφὸν τὸν ἴδιον Σίμωνα, καὶ λέγει αὐτῷ, Εὑρήκαμεν τὸν Μεσσίαν, ὅ ἐστιν μεθερμηνευόμενον Χριστός. ἤγαγεν αὐτὸν πρὸς τὸν Ἰησοῦν. ἐμβλέψας αὐτῷ, ὁ Ἰησοῦς εἶπεν, Σὺ εἶ Σίμων ὁ υἱὸς Ἰωάννου; σὺ κληθήσῃ Κηφᾶς, ὃ ἑρμηνεύεται Πέτρος. 

2. Περιπατῶν δὲ παρὰ τὴν θάλασσαν τῆς Γαλιλαίας, εἶδεν δύο ἀδελφούς, Σίμωνα τὸν λεγόμενον Πέτρον, καὶ Ἀνδρέαν τὸν ἀδελφὸν αὐτοῦ, βάλλοντας ἀμφίβληστρον εἰς τὴν θάλασσαν; ἦσαν γὰρ ἁλιεῖς. καὶ λέγει αὐτοῖς, Δεῦτε ὀπίσω μου, καὶ ποιήσω ὑμᾶς ἁλιεῖς ἀνθρώπων. οἱ δὲ εὐθέως ἀφέντες τὰ δίκτυα, ἠκολούθησαν αὐτῷ.

3. Καὶ παράγων παρὰ τὴν θάλασσαν τῆς Γαλιλαίας, εἶδεν Σίμωνα καὶ Ἀνδρέαν, τὸν ἀδελφὸν Σίμωνος, ἀμφιβάλλοντας ἐν τῇ θαλάσσῃ; ἦσαν γὰρ ἁλιεῖς. καὶ εἶπεν αὐτοῖς ὁ Ἰησοῦς, Δεῦτε ὀπίσω μου, καὶ ποιήσω ὑμᾶς γενέσθαι ἁλιεῖς ἀνθρώπων. καὶ εὐθὺς, ἀφέντες τὰ δίκτυα, ἠκολούθησαν αὐτῷ.

4. Ἐγένετο δὲ ἐν τῷ, τὸν ὄχλον ἐπικεῖσθαι αὐτῷ καὶ ἀκούειν τὸν λόγον τοῦ Θεοῦ, καὶ αὐτὸς ἦν ἑστὼς παρὰ τὴν λίμνην Γεννησαρέτ: καὶ εἶδεν πλοῖα⇔ δύο, ἑστῶτα παρὰ τὴν λίμνην, οἱ δὲ ἁλιεῖς ἀπ’ αὐτῶν ἀποβάντες, ἔπλυνον τὰ δίκτυα. ἐμβὰς δὲ εἰς ἓν τῶν πλοίων, ὃ ἦν Σίμωνος, ἠρώτησεν αὐτὸν ἀπὸ τῆς γῆς ἐπαναγαγεῖν ὀλίγον. καθίσας δὲ, ἐκ τοῦ πλοίου ἐδίδασκεν τοὺς ὄχλους. ὡς δὲ ἐπαύσατο λαλῶν, εἶπεν πρὸς τὸν Σίμωνα, Ἐπανάγαγε εἰς τὸ βάθος καὶ χαλάσατε τὰ δίκτυα ὑμῶν εἰς ἄγραν. καὶ ἀποκριθεὶς, Σίμων εἶπεν, Ἐπιστάτα, δι’ ὅλης νυκτὸς κοπιάσαντες, οὐδὲν ἐλάβομεν, ἐπὶ δὲ τῷ ῥήματί σου, χαλάσω τὰ δίκτυα. καὶ τοῦτο ποιήσαντες, συνέκλεισαν πλῆθος ἰχθύων πολύ; διερρήσσετο δὲ τὰ δίκτυα αὐτῶν. καὶ κατένευσαν τοῖς μετόχοις ἐν τῷ ἑτέρῳ πλοίῳ, τοῦ ἐλθόντας, συλλαβέσθαι αὐτοῖς; καὶ ἦλθον, καὶ ἔπλησαν ἀμφότερα τὰ πλοῖα, ὥστε βυθίζεσθαι αὐτά. ἰδὼν δὲ, Σίμων Πέτρος προσέπεσεν τοῖς γόνασιν Ἰησοῦ, λέγων, Ἔξελθε ἀπ’ ἐμοῦ, ὅτι ἀνὴρ ἁμαρτωλός εἰμι, Κύριε. θάμβος γὰρ περιέσχεν αὐτὸν, καὶ πάντας τοὺς σὺν αὐτῷ, ἐπὶ τῇ ἄγρᾳ τῶν ἰχθύων ὧν συνέλαβον; ὁμοίως δὲ καὶ Ἰάκωβον καὶ Ἰωάννην, υἱοὺς Ζεβεδαίου, οἳ ἦσαν κοινωνοὶ τῷ Σίμωνι. καὶ εἶπεν πρὸς τὸν Σίμωνα, ὁ Ἰησοῦς, Μὴ φοβοῦ; ἀπὸ τοῦ νῦν ἀνθρώπους ἔσῃ ζωγρῶν. καὶ καταγαγόντες τὰ πλοῖα ἐπὶ τὴν γῆν, ἀφέντες πάντα, ἠκολούθησαν αὐτῷ.

5. Καὶ ἐλθὼν ὁ Ἰησοῦς εἰς τὴν οἰκίαν Πέτρου, εἶδεν τὴν πενθερὰν αὐτοῦ βεβλημένην καὶ πυρέσσουσαν; καὶ ἥψατο τῆς χειρὸς αὐτῆς, καὶ ἀφῆκεν αὐτὴν ὁ πυρετός; καὶ ἠγέρθη καὶ διηκόνει αὐτῷ.

6. ἡ δὲ πενθερὰ Σίμωνος κατέκειτο πυρέσσουσα. καὶ εὐθὺς λέγουσιν αὐτῷ περὶ αὐτῆς. καὶ προσελθὼν, ἤγειρεν αὐτὴν, κρατήσας τῆς χειρός. καὶ ἀφῆκεν αὐτὴν ὁ πυρετός, καὶ διηκόνει αὐτοῖς.

7. Ἀναστὰς δὲ ἀπὸ τῆς συναγωγῆς, εἰσῆλθεν εἰς τὴν οἰκίαν Σίμωνος. πενθερὰ δὲ τοῦ Σίμωνος ἦν συνεχομένη πυρετῷ μεγάλῳ; καὶ ἠρώτησαν αὐτὸν περὶ αὐτῆς. καὶ ἐπιστὰς ἐπάνω αὐτῆς, ἐπετίμησεν τῷ πυρετῷ, καὶ ἀφῆκεν αὐτήν; παραχρῆμα δὲ ἀναστᾶσα, διηκόνει αὐτοῖς.

8. Ἐλθὼν δὲ ὁ Ἰησοῦς εἰς τὰ μέρη Καισαρείας τῆς Φιλίππου, ἠρώτα τοὺς μαθητὰς αὐτοῦ, λέγων, Τίνα λέγουσιν οἱ ἄνθρωποι εἶναι τὸν Υἱὸν τοῦ ἀνθρώπου? οἱ δὲ εἶπαν, Οἱ μὲν Ἰωάννην τὸν Βαπτιστήν; ἄλλοι δὲ Ἠλίαν; ἕτεροι δὲ Ἰερεμίαν, ἢ ἕνα τῶν προφητῶν. λέγει αὐτοῖς, Ὑμεῖς δὲ τίνα με λέγετε εἶναι? ἀποκριθεὶς δὲ, Σίμων Πέτρος εἶπεν, Σὺ εἶ ὁ Χριστὸς, ὁ Υἱὸς τοῦ Θεοῦ τοῦ ζῶντος. ἀποκριθεὶς δὲ, ὁ Ἰησοῦς εἶπεν αὐτῷ, Μακάριος εἶ, Σίμων Βαριωνᾶ! ὅτι σὰρξ καὶ αἷμα οὐκ ἀπεκάλυψέν σοι, ἀλλ’ ὁ Πατήρ μου, ὁ ἐν τοῖς οὐρανοῖς. κἀγὼ δέ σοι λέγω, ὅτι σὺ εἶ Πέτρος, καὶ ἐπὶ ταύτῃ τῇ πέτρᾳ οἰκοδομήσω μου τὴν ἐκκλησίαν, καὶ πύλαι ᾅδου οὐ κατισχύσουσιν αὐτῆς. δώσω σοι τὰς κλεῖδας τῆς βασιλείας τῶν οὐρανῶν; καὶ ὃ ἐὰν δήσῃς ἐπὶ τῆς γῆς, ἔσται δεδεμένον ἐν τοῖς οὐρανοῖς; καὶ ὃ ἐὰν λύσῃς ἐπὶ τῆς γῆς, ἔσται λελυμένον ἐν τοῖς οὐρανοῖς. τότε διεστείλατο τοῖς μαθηταῖς, ἵνα μηδενὶ εἴπωσιν, ὅτι αὐτός ἐστιν ὁ Χριστός.

9. Καὶ ἐξῆλθεν ὁ Ἰησοῦς καὶ οἱ μαθηταὶ αὐτοῦ εἰς τὰς κώμας Καισαρείας τῆς Φιλίππου. καὶ ἐν τῇ ὁδῷ ἐπηρώτα τοὺς μαθητὰς αὐτοῦ, λέγων αὐτοῖς, Τίνα με λέγουσιν οἱ ἄνθρωποι εἶναι? οἱ δὲ εἶπαν αὐτῷ, λέγοντες ὅτι, Ἰωάννην τὸν Βαπτιστήν, καὶ ἄλλοι, Ἠλίαν; ἄλλοι δὲ, ὅτι εἷς τῶν προφητῶν. καὶ αὐτὸς ἐπηρώτα αὐτούς, Ὑμεῖς δὲ, τίνα με λέγετε εἶναι? ἀποκριθεὶς, ὁ Πέτρος λέγει αὐτῷ, Σὺ εἶ ὁ Χριστός. καὶ ἐπετίμησεν αὐτοῖς ἵνα μηδενὶ λέγωσιν περὶ αὐτοῦ.

10. Καὶ ἐγένετο ἐν τῷ εἶναι αὐτὸν προσευχόμενον κατὰ μόνας, συνῆσαν αὐτῷ οἱ μαθηταί, καὶ ἐπηρώτησεν αὐτοὺς, λέγων, Τίνα με «οἱ ὄχλοι»⇔ λέγουσιν εἶναι? οἱ δὲ ἀποκριθέντες, εἶπαν, Ἰωάννην τὸν Βαπτιστήν; ἄλλοι δὲ, Ἠλίαν; ἄλλοι δὲ, ὅτι προφήτης, τις τῶν ἀρχαίων, ἀνέστη. εἶπεν δὲ αὐτοῖς, Ὑμεῖς δὲ, τίνα με λέγετε εἶναι? Πέτρος δὲ ἀποκριθεὶς, εἶπεν, Τὸν Χριστὸν τοῦ Θεοῦ.

11. Καὶ εὐθέως ἠνάγκασεν τοὺς μαθητὰς ἐμβῆναι εἰς τὸ πλοῖον, καὶ προάγειν αὐτὸν εἰς τὸ πέραν, ἕως οὗ ἀπολύσῃ τοὺς ὄχλους. καὶ ἀπολύσας τοὺς ὄχλους, ἀνέβη εἰς τὸ ὄρος κατ’ ἰδίαν προσεύξασθαι. ὀψίας δὲ γενομένης, μόνος ἦν ἐκεῖ. τὸ δὲ πλοῖον, ἤδη σταδίους πολλοὺς ἀπὸ τῆς γῆς, ἀπεῖχεν βασανιζόμενον ὑπὸ τῶν κυμάτων ἦν, γὰρ ἐναντίος ὁ ἄνεμος. τετάρτῃ δὲ φυλακῇ τῆς νυκτὸς, ἦλθεν πρὸς αὐτοὺς, περιπατῶν ἐπὶ τὴν θάλασσαν. οἱ δὲ μαθηταὶ, ἰδόντες αὐτὸν ἐπὶ τῆς θαλάσσης περιπατοῦντα, ἐταράχθησαν, λέγοντες, ὅτι Φάντασμά ἐστιν; καὶ ἀπὸ τοῦ φόβου ἔκραξαν, εὐθὺς δὲ ἐλάλησεν «ὁ Ἰησοῦς»⇔ αὐτοῖς, λέγων, Θαρσεῖτε, ἐγώ εἰμι, μὴ φοβεῖσθε. ἀποκριθεὶς δὲ, αὐτῷ, ὁ Πέτρος εἶπεν Κύριε, εἰ σὺ εἶ, κέλευσόν με ἐλθεῖν πρὸς σὲ ἐπὶ τὰ ὕδατα. ὁ δὲ εἶπεν, Ἐλθέ. καὶ καταβὰς ἀπὸ τοῦ πλοίου, [ὁ] Πέτρος περιεπάτησεν ἐπὶ τὰ ὕδατα, καὶ ἦλθεν πρὸς τὸν Ἰησοῦν. βλέπων δὲ τὸν ἄνεμον ‹ἰσχυρὸν›, ἐφοβήθη, καὶ ἀρξάμενος καταποντίζεσθαι, ἔκραξεν, λέγων, Κύριε, σῶσόν με. εὐθέως δὲ ὁ Ἰησοῦς, ἐκτείνας, τὴν χεῖρα ἐπελάβετο αὐτοῦ, καὶ λέγει αὐτῷ, Ὀλιγόπιστε, εἰς τί ἐδίστασας? καὶ ἀναβάντων αὐτῶν εἰς τὸ πλοῖον, ἐκόπασεν ὁ ἄνεμος. οἱ δὲ ἐν τῷ πλοίῳ προσεκύνησαν αὐτῷ, λέγοντες, Ἀληθῶς Θεοῦ Υἱὸς εἶ!

12. Καὶ εὐθὺς ἠνάγκασεν τοὺς μαθητὰς αὐτοῦ ἐμβῆναι εἰς τὸ πλοῖον, καὶ προάγειν εἰς τὸ πέραν, πρὸς Βηθσαϊδάν, ἕως αὐτὸς ἀπολύει τὸν ὄχλον. καὶ ἀποταξάμενος αὐτοῖς, ἀπῆλθεν εἰς τὸ ὄρος προσεύξασθαι. καὶ ὀψίας γενομένης, ἦν τὸ πλοῖον ἐν μέσῳ τῆς θαλάσσης, καὶ αὐτὸς μόνος ἐπὶ τῆς γῆς. καὶ ἰδὼν αὐτοὺς βασανιζομένους ἐν τῷ ἐλαύνειν, ἦν γὰρ ὁ ἄνεμος ἐναντίος αὐτοῖς. περὶ τετάρτην φυλακὴν τῆς νυκτὸς ἔρχεται πρὸς αὐτοὺς, περιπατῶν ἐπὶ τῆς θαλάσσης, καὶ ἤθελεν παρελθεῖν αὐτούς. οἱ δὲ ἰδόντες αὐτὸν ἐπὶ τῆς θαλάσσης περιπατοῦντα, ἔδοξαν ὅτι φάντασμά ἐστιν, καὶ ἀνέκραξαν. πάντες γὰρ αὐτὸν εἶδον, καὶ ἐταράχθησαν. ὁ δὲ εὐθὺς ἐλάλησεν μετ’ αὐτῶν, καὶ λέγει αὐτοῖς, Θαρσεῖτε; ἐγώ εἰμι; μὴ φοβεῖσθε. καὶ ἀνέβη πρὸς αὐτοὺς εἰς τὸ πλοῖον, καὶ ἐκόπασεν ὁ ἄνεμος. καὶ λίαν ἐκ περισσοῦ ἐν ἑαυτοῖς ἐξίσταντο, οὐ γὰρ συνῆκαν ἐπὶ τοῖς ἄρτοις, ἀλλ’ ἦν αὐτῶν ἡ καρδία πεπωρωμένη.

13. Ὡς δὲ ὀψία ἐγένετο, κατέβησαν οἱ μαθηταὶ αὐτοῦ ἐπὶ τὴν θάλασσαν, καὶ ἐμβάντες εἰς πλοῖον, ἤρχοντο πέραν τῆς θαλάσσης εἰς Καφαρναούμ. καὶ σκοτία ἤδη ἐγεγόνει, καὶ οὔπω ἐληλύθει πρὸς αὐτοὺς ὁ Ἰησοῦς. ἥ τε θάλασσα ἀνέμου μεγάλου πνέοντος διεγείρετο. ἐληλακότες οὖν ὡς σταδίους εἴκοσι πέντε ἢ τριάκοντα, θεωροῦσιν τὸν Ἰησοῦν περιπατοῦντα ἐπὶ τῆς θαλάσσης, καὶ ἐγγὺς τοῦ πλοίου γινόμενον, καὶ ἐφοβήθησαν. ὁ δὲ λέγει αὐτοῖς, Ἐγώ εἰμι; μὴ φοβεῖσθε. ἤθελον οὖν λαβεῖν αὐτὸν εἰς τὸ πλοῖον, καὶ εὐθέως ἐγένετο τὸ πλοῖον ἐπὶ τῆς γῆς εἰς ἣν ὑπῆγον.

14. εἰδὼς ὅτι πάντα ἔδωκεν αὐτῷ ὁ Πατὴρ εἰς τὰς χεῖρας, καὶ ὅτι ἀπὸ Θεοῦ ἐξῆλθεν καὶ πρὸς τὸν Θεὸν ὑπάγει, ἐγείρεται ἐκ τοῦ δείπνου, καὶ τίθησιν τὰ ἱμάτια, καὶ λαβὼν λέντιον διέζωσεν ἑαυτόν. εἶτα βάλλει ὕδωρ εἰς τὸν νιπτῆρα, καὶ ἤρξατο νίπτειν τοὺς πόδας τῶν μαθητῶν, καὶ ἐκμάσσειν τῷ λεντίῳ ᾧ ἦν διεζωσμένος, ἔρχεται οὖν πρὸς Σίμωνα Πέτρον, λέγει αὐτῷ, Κύριε, σύ μου νίπτεις τοὺς πόδας? ἀπεκρίθη Ἰησοῦς καὶ εἶπεν αὐτῷ, Ὃ ἐγὼ ποιῶ σὺ οὐκ οἶδας ἄρτι, γνώσῃ δὲ μετὰ ταῦτα. λέγει αὐτῷ Πέτρος, Οὐ μὴ νίψῃς μου τοὺς πόδας, εἰς τὸν αἰῶνα. ἀπεκρίθη Ἰησοῦς αὐτῷ, Ἐὰν μὴ νίψω σε, οὐκ ἔχεις μέρος μετ’ ἐμοῦ. λέγει αὐτῷ Σίμων Πέτρος, Κύριε, μὴ τοὺς πόδας μου μόνον, ἀλλὰ καὶ τὰς χεῖρας καὶ τὴν κεφαλήν. λέγει αὐτῷ ‹ὁ› Ἰησοῦς, Ὁ λελουμένος οὐκ ἔχει χρείαν, εἰ μὴ τοὺς πόδας νίψασθαι, ἀλλ’ ἔστιν καθαρὸς ὅλος; καὶ ὑμεῖς καθαροί ἐστε, ἀλλ’ οὐχὶ πάντες. ᾔδει γὰρ τὸν παραδιδόντα αὐτόν; διὰ τοῦτο εἶπεν ὅτι, Οὐχὶ πάντες καθαροί ἐστε.

15. Ἀπὸ τότε ἤρξατο ‹ὁ› Ἰησοῦς 〈Χριστὸς〉 δεικνύειν τοῖς μαθηταῖς αὐτοῦ ὅτι δεῖ αὐτὸν εἰς Ἱεροσόλυμα ἀπελθεῖν, καὶ πολλὰ παθεῖν ἀπὸ τῶν πρεσβυτέρων καὶ ἀρχιερέων καὶ γραμματέων, καὶ ἀποκτανθῆναι, καὶ τῇ τρίτῃ ἡμέρᾳ ἐγερθῆναι. καὶ προσλαβόμενος αὐτὸν, ὁ Πέτρος ἤρξατο ἐπιτιμᾶν αὐτῷ, λέγων, Ἵλεώς σοι, Κύριε; οὐ, μὴ ἔσται σοι τοῦτο. ὁ δὲ στραφεὶς εἶπεν τῷ Πέτρῳ, Ὕπαγε ὀπίσω μου, Σατανᾶ! σκάνδαλον εἶ ἐμοῦ. ὅτι οὐ φρονεῖς τὰ τοῦ Θεοῦ, ἀλλὰ τὰ τῶν ἀνθρώπων.

16. Ἀπὸ τότε ἤρξατο ‹ὁ› Ἰησοῦς 〈Χριστὸς〉 δεικνύειν τοῖς μαθηταῖς αὐτοῦ ὅτι δεῖ αὐτὸν εἰς Ἱεροσόλυμα ἀπελθεῖν, καὶ πολλὰ παθεῖν ἀπὸ τῶν πρεσβυτέρων καὶ ἀρχιερέων καὶ γραμματέων, καὶ ἀποκτανθῆναι, καὶ τῇ τρίτῃ ἡμέρᾳ ἐγερθῆναι. καὶ προσλαβόμενος αὐτὸν, ὁ Πέτρος ἤρξατο ἐπιτιμᾶν αὐτῷ, λέγων, Ἵλεώς σοι, Κύριε; οὐ, μὴ ἔσται σοι τοῦτο. ὁ δὲ στραφεὶς εἶπεν τῷ Πέτρῳ, Ὕπαγε ὀπίσω μου, Σατανᾶ! σκάνδαλον εἶ ἐμοῦ. ὅτι οὐ φρονεῖς τὰ τοῦ Θεοῦ, ἀλλὰ τὰ τῶν ἀνθρώπων.

17. Καὶ ἤρξατο διδάσκειν αὐτοὺς ὅτι δεῖ τὸν Υἱὸν τοῦ ἀνθρώπου πολλὰ παθεῖν, καὶ ἀποδοκιμασθῆναι ὑπὸ τῶν πρεσβυτέρων καὶ τῶν ἀρχιερέων καὶ τῶν γραμματέων, καὶ ἀποκτανθῆναι, καὶ μετὰ τρεῖς ἡμέρας ἀναστῆναι. καὶ παρρησίᾳ τὸν λόγον ἐλάλει. καὶ προσλαβόμενος ὁ Πέτρος αὐτὸν, ἤρξατο ἐπιτιμᾶν αὐτῷ. ὁ δὲ ἐπιστραφεὶς καὶ ἰδὼν τοὺς μαθητὰς αὐτοῦ, ἐπετίμησεν Πέτρῳ, καὶ λέγει, Ὕπαγε ὀπίσω μου, Σατανᾶ, ὅτι οὐ φρονεῖς τὰ τοῦ Θεοῦ, ἀλλὰ τὰ τῶν ἀνθρώπων.

18. καὶ ἔρχεται πρὸς τοὺς μαθητὰς καὶ εὑρίσκει αὐτοὺς καθεύδοντας. καὶ λέγει τῷ Πέτρῳ, Οὕτως οὐκ ἰσχύσατε μίαν ὥραν γρηγορῆσαι μετ’ ἐμοῦ? γρηγορεῖτε καὶ προσεύχεσθε, ἵνα μὴ εἰσέλθητε εἰς πειρασμόν. τὸ μὲν πνεῦμα πρόθυμον, ἡ δὲ σὰρξ ἀσθενής.

19. καὶ πάλιν ἀπελθὼν, προσηύξατο, τὸν αὐτὸν λόγον εἰπών. καὶ πάλιν ἐλθὼν, εὗρεν αὐτοὺς καθεύδοντας. ἦσαν γὰρ αὐτῶν οἱ ὀφθαλμοὶ καταβαρυνόμενοι; καὶ οὐκ ᾔδεισαν τί ἀποκριθῶσιν

20. καὶ ἰδοὺ, εἷς τῶν μετὰ Ἰησοῦ, ἐκτείνας τὴν χεῖρα, ἀπέσπασεν τὴν μάχαιραν αὐτοῦ, καὶ πατάξας τὸν δοῦλον τοῦ ἀρχιερέως, ἀφεῖλεν αὐτοῦ τὸ ὠτίον. τότε λέγει αὐτῷ ὁ Ἰησοῦς, Ἀπόστρεψον τὴν μάχαιράν σου εἰς τὸν τόπον αὐτῆς; πάντες γὰρ οἱ λαβόντες μάχαιραν, ἐν μαχαίρῃ ἀπολοῦνται.

21. εἷς δέ, τις τῶν παρεστηκότων, σπασάμενος τὴν μάχαιραν, ἔπαισεν τὸν δοῦλον τοῦ ἀρχιερέως, καὶ ἀφεῖλεν αὐτοῦ τὸ ὠτάριον.

22. ἰδόντες δὲ οἱ περὶ αὐτὸν τὸ ἐσόμενον, εἶπαν Κύριε, εἰ πατάξομεν ἐν μαχαίρῃ? καὶ ἐπάταξεν εἷς τις ἐξ αὐτῶν τοῦ ἀρχιερέως, τὸν δοῦλον, καὶ ἀφεῖλεν τὸ οὖς, αὐτοῦ τὸ δεξιόν.

23. Σίμων οὖν Πέτρος, ἔχων μάχαιραν, εἵλκυσεν αὐτὴν, καὶ ἔπαισεν τὸν τοῦ ἀρχιερέως δοῦλον, καὶ ἀπέκοψεν αὐτοῦ τὸ ὠτάριον τὸ δεξιόν. ἦν δὲ ὄνομα τῷ δούλῳ, Μάλχος.

24. ἀποκριθεὶς δὲ, ὁ Πέτρος εἶπεν αὐτῷ, Εἰ πάντες σκανδαλισθήσονται ἐν σοί, ἐγὼ οὐδέποτε σκανδαλισθήσομαι. ἔφη αὐτῷ ὁ Ἰησοῦς, Ἀμὴν λέγω σοι, ὅτι ἐν ταύτῃ τῇ νυκτὶ, πρὶν ἀλέκτορα φωνῆσαι, τρὶς ἀπαρνήσῃ με. λέγει αὐτῷ ὁ Πέτρος, Κἂν δέῃ με σὺν σοὶ ἀποθανεῖν, οὐ μή σε ἀπαρνήσομαι. ὁμοίως καὶ, πάντες οἱ μαθηταὶ εἶπαν.

25. Ὁ δὲ Πέτρος ἐκάθητο ἔξω ἐν τῇ αὐλῇ, καὶ προσῆλθεν αὐτῷ μία παιδίσκη, λέγουσα, Καὶ σὺ ἦσθα μετὰ Ἰησοῦ τοῦ Γαλιλαίου. ὁ δὲ ἠρνήσατο ἔμπροσθεν πάντων, λέγων, Οὐκ οἶδα τί λέγεις. ἐξελθόντα δὲ εἰς τὸν πυλῶνα, εἶδεν αὐτὸν ἄλλη, καὶ λέγει τοῖς ἐκεῖ, Οὗτος ἦν μετὰ Ἰησοῦ τοῦ Ναζωραίου. καὶ πάλιν ἠρνήσατο μετὰ ὅρκου, ὅτι Οὐκ οἶδα τὸν ἄνθρωπον. μετὰ μικρὸν, δὲ προσελθόντες οἱ ἑστῶτες, εἶπον τῷ Πέτρῳ, Ἀληθῶς καὶ, σὺ ἐξ αὐτῶν εἶ, καὶ γὰρ ἡ λαλιά σου δῆλόν σε ποιεῖ. τότε ἤρξατο καταθεματίζειν καὶ ὀμνύειν, ὅτι Οὐκ οἶδα τὸν ἄνθρωπον! καὶ εὐθέως ἀλέκτωρ ἐφώνησεν. καὶ ἐμνήσθη ὁ Πέτρος τοῦ ῥήματος Ἰησοῦ, εἰρηκότος ὅτι, Πρὶν ἀλέκτορα φωνῆσαι, τρὶς ἀπαρνήσῃ με. καὶ ἐξελθὼν ἔξω, ἔκλαυσεν πικρῶς.

26. ὁ δὲ Πέτρος ἔφη αὐτῷ, Εἰ καὶ πάντες σκανδαλισθήσονται, ἀλλ’ οὐκ ἐγώ. καὶ λέγει αὐτῷ ὁ Ἰησοῦς, Ἀμὴν λέγω σοι, ὅτι σὺ σήμερον, ταύτῃ τῇ νυκτὶ, πρὶν ἢ δὶς ἀλέκτορα φωνῆσαι, τρίς με ἀπαρνήσῃ. ὁ δὲ ἐκπερισσῶς ἐλάλει, Ἐὰν δέῃ, με συναποθανεῖν σοι, οὐ μή σε ἀπαρνήσομαι. ὡσαύτως δὲ καὶ πάντες ἔλεγον. 

27. Καὶ ὄντος τοῦ Πέτρου κάτω, ἐν τῇ αὐλῇ, ἔρχεται μία τῶν παιδισκῶν τοῦ ἀρχιερέως, καὶ ἰδοῦσα τὸν Πέτρον θερμαινόμενον, ἐμβλέψασα αὐτῷ, λέγει, Καὶ σὺ μετὰ τοῦ Ναζαρηνοῦ ἦσθα-- τοῦ Ἰησοῦ. ὁ δὲ ἠρνήσατο, λέγων, Οὔτε οἶδα, οὔτε ἐπίσταμαι σὺ τί λέγεις. καὶ ἐξῆλθεν ἔξω εἰς τὸ προαύλιον; ‹καὶ ἀλέκτωρ ἐφώνησεν›. καὶ ἡ παιδίσκη, ἰδοῦσα αὐτὸν, ἤρξατο πάλιν λέγειν τοῖς παρεστῶσιν, ὅτι Οὗτος ἐξ αὐτῶν ἐστιν. ὁ δὲ πάλιν ἠρνεῖτο. καὶ μετὰ μικρὸν, πάλιν οἱ παρεστῶτες ἔλεγον τῷ Πέτρῳ, Ἀληθῶς ἐξ αὐτῶν εἶ, καὶ γὰρ Γαλιλαῖος εἶ, ‹καὶ ἡ λαλιά σου ὁμοιάζει›. ὁ δὲ ἤρξατο ἀναθεματίζειν καὶ ὀμνύναι, ὅτι Οὐκ οἶδα τὸν ἄνθρωπον τοῦτον, ὃν λέγετε! καὶ εὐθὺς ἐκ δευτέρου ἀλέκτωρ ἐφώνησεν. καὶ ἀνεμνήσθη ὁ Πέτρος τὸ ῥῆμα ὡς εἶπεν αὐτῷ ὁ Ἰησοῦς, ὅτι Πρὶν ἀλέκτορα δὶς⇔ φωνῆσαι, τρίς με ἀπαρνήσῃ; καὶ ἐπιβαλὼν, ἔκλαιεν.

28. Σίμων, Σίμων, ἰδοὺ, ὁ Σατανᾶς ἐξῃτήσατο ὑμᾶς, τοῦ σινιάσαι ὡς τὸν σῖτον; ἐγὼ δὲ ἐδεήθην περὶ σοῦ, ἵνα μὴ ἐκλίπῃ ἡ πίστις σου; καὶ σύ, ποτε ἐπιστρέψας, στήρισον τοὺς ἀδελφούς σου. ὁ δὲ εἶπεν αὐτῷ, Κύριε, μετὰ σοῦ ἕτοιμός εἰμι καὶ εἰς φυλακὴν, καὶ εἰς θάνατον πορεύεσθαι. ὁ δὲ εἶπεν, Λέγω σοι Πέτρε, οὐ φωνήσει σήμερον ἀλέκτωρ, ἕως τρίς με ἀπαρνήσῃ 〈μὴ〉 εἰδέναι.

29. Συλλαβόντες δὲ αὐτὸν, ἤγαγον, καὶ εἰσήγαγον εἰς τὴν οἰκίαν τοῦ ἀρχιερέως. ὁ δὲ Πέτρος ἠκολούθει μακρόθεν. περιαψάντων δὲ πῦρ ἐν μέσῳ τῆς αὐλῆς, καὶ συνκαθισάντων, ἐκάθητο ὁ Πέτρος μέσος αὐτῶν. ἰδοῦσα δὲ αὐτὸν, παιδίσκη τις καθήμενον πρὸς τὸ φῶς, καὶ ἀτενίσασα αὐτῷ, εἶπεν, Καὶ οὗτος σὺν αὐτῷ ἦν. ὁ δὲ ἠρνήσατο, λέγων, Οὐκ οἶδα αὐτόν, γύναι. καὶ μετὰ βραχὺ, ἕτερος ἰδὼν αὐτὸν, ἔφη, Καὶ σὺ ἐξ αὐτῶν εἶ. ὁ δὲ Πέτρος ἔφη, Ἄνθρωπε, οὐκ εἰμί. καὶ διαστάσης ὡσεὶ ὥρας μιᾶς, ἄλλος τις διϊσχυρίζετο, λέγων, Ἐπ’ ἀληθείας καὶ οὗτος μετ’ αὐτοῦ ἦν; καὶ γὰρ Γαλιλαῖός ἐστιν. εἶπεν δὲ ὁ Πέτρος, Ἄνθρωπε, οὐκ οἶδα ὃ λέγεις. καὶ παραχρῆμα ἔτι λαλοῦντος αὐτοῦ, ἐφώνησεν ἀλέκτωρ. καὶ στραφεὶς, ὁ Κύριος ἐνέβλεψεν τῷ Πέτρῳ; καὶ ὑπεμνήσθη ὁ Πέτρος τοῦ λόγου τοῦ Κυρίου, ὡς εἶπεν αὐτῷ, ὅτι Πρὶν ἀλέκτορα φωνῆσαι σήμερον, ἀπαρνήσῃ με τρίς. καὶ ἐξελθὼν ἔξω, ἔκλαυσεν πικρῶς.

30.λέγει αὐτῷ ‹ὁ› Πέτρος, Κύριε, διὰ τί οὐ δύναμαί σοι ἀκολουθῆσαι ἄρτι? τὴν ψυχήν μου ὑπὲρ σοῦ θήσω. ἀποκρίνεται Ἰησοῦς, Τὴν ψυχήν σου ὑπὲρ ἐμοῦ θήσεις? ἀμὴν ἀμὴν λέγω σοι, οὐ μὴ ἀλέκτωρ φωνήσῃ, ἕως οὗ ἀρνήσῃ με τρίς. 

31. λέγει οὖν τῷ Πέτρῳ ἡ παιδίσκη, ἡ θυρωρός, Μὴ καὶ σὺ, ἐκ τῶν μαθητῶν εἶ τοῦ ἀνθρώπου τούτου? λέγει ἐκεῖνος, Οὐκ εἰμί. εἱστήκεισαν δὲ οἱ δοῦλοι καὶ οἱ ὑπηρέται, ἀνθρακιὰν πεποιηκότες --  ὅτι ψῦχος ἦν --  καὶ ἐθερμαίνοντο. ἦν δὲ καὶ ὁ Πέτρος μετ’ αὐτῶν ἑστὼς, καὶ θερμαινόμενος. 

32. καὶ εἰσελθοῦσαι εἰς τὸ μνημεῖον, εἶδον νεανίσκον καθήμενον ἐν τοῖς δεξιοῖς, περιβεβλημένον στολὴν λευκήν, καὶ ἐξεθαμβήθησαν. ὁ δὲ λέγει αὐταῖς, Μὴ ἐκθαμβεῖσθε. Ἰησοῦν ζητεῖτε, τὸν Ναζαρηνὸν, τὸν ἐσταυρωμένον. ἠγέρθη! οὐκ ἔστιν ὧδε; ἴδε ὁ τόπος ὅπου ἔθηκαν αὐτόν. ἀλλὰ ὑπάγετε, εἴπατε τοῖς μαθηταῖς αὐτοῦ, καὶ τῷ Πέτρῳ, ὅτι Προάγει ὑμᾶς εἰς τὴν Γαλιλαίαν; ἐκεῖ αὐτὸν ὄψεσθε, καθὼς εἶπεν ὑμῖν.

33. Τῇ δὲ μιᾷ τῶν σαββάτων, Μαρία ἡ Μαγδαληνὴ ἔρχεται πρωῒ, σκοτίας ἔτι οὔσης, εἰς τὸ μνημεῖον, καὶ βλέπει τὸν λίθον ἠρμένον ἐκ τοῦ μνημείου. τρέχει οὖν καὶ ἔρχεται πρὸς Σίμωνα Πέτρον, καὶ πρὸς τὸν ἄλλον μαθητὴν ὃν ἐφίλει ὁ Ἰησοῦς, καὶ λέγει αὐτοῖς, Ἦραν τὸν Κύριον ἐκ τοῦ μνημείου, καὶ οὐκ οἴδαμεν ποῦ ἔθηκαν αὐτόν. Ἐξῆλθεν οὖν ὁ Πέτρος καὶ ὁ ἄλλος μαθητής, καὶ ἤρχοντο εἰς τὸ μνημεῖον. ἔτρεχον δὲ οἱ δύο ὁμοῦ, καὶ ὁ ἄλλος μαθητὴς προέδραμεν τάχιον τοῦ Πέτρου, καὶ ἦλθεν πρῶτος εἰς τὸ μνημεῖον. καὶ παρακύψας, βλέπει κείμενα τὰ ὀθόνια; οὐ μέντοι εἰσῆλθεν. ἔρχεται οὖν καὶ Σίμων Πέτρος ἀκολουθῶν αὐτῷ, καὶ εἰσῆλθεν εἰς τὸ μνημεῖον, καὶ θεωρεῖ τὰ ὀθόνια κείμενα, καὶ τὸ σουδάριον, ὃ ἦν ἐπὶ τῆς κεφαλῆς αὐτοῦ, οὐ μετὰ τῶν ὀθονίων κείμενον, ἀλλὰ χωρὶς ἐντετυλιγμένον εἰς ἕνα τόπον. τότε οὖν εἰσῆλθεν καὶ ὁ ἄλλος μαθητὴς, ὁ ἐλθὼν πρῶτος εἰς τὸ μνημεῖον, καὶ εἶδεν καὶ ἐπίστευσεν; οὐδέπω γὰρ ᾔδεισαν τὴν γραφὴν, ὅτι δεῖ αὐτὸν ἐκ νεκρῶν ἀναστῆναι.

34. λέγοντας, ὅτι ὄντως, ἠγέρθη ὁ Κύριος, καὶ ὤφθη Σίμωνι.

35. καὶ ὅτι ὤφθη Κηφᾷ, εἶτα τοῖς δώδεκα.

36. Ὅτε οὖν ἠρίστησαν, λέγει τῷ Σίμωνι Πέτρῳ ὁ Ἰησοῦς, Σίμων Ἰωάννου, ἀγαπᾷς με πλέον τούτων? λέγει αὐτῷ, Ναί, Κύριε; σὺ οἶδας ὅτι φιλῶ σε. λέγει αὐτῷ, Βόσκε τὰ ἀρνία μου. λέγει αὐτῷ πάλιν δεύτερον, Σίμων Ἰωάννου, ἀγαπᾷς με? λέγει αὐτῷ, Ναί, Κύριε; σὺ οἶδας ὅτι φιλῶ σε. λέγει αὐτῷ, Ποίμαινε τὰ πρόβατά μου. λέγει αὐτῷ τὸ τρίτον, Σίμων Ἰωάννου, φιλεῖς με? ἐλυπήθη ὁ Πέτρος ὅτι εἶπεν αὐτῷ τὸ τρίτον, Φιλεῖς με? καὶ εἶπεν αὐτῷ, Κύριε, πάντα σὺ οἶδας; σὺ γινώσκεις ὅτι φιλῶ σε. λέγει αὐτῷ ‹ὁ› Ἰησοῦς, Βόσκε τὰ πρόβατά μου. ἀμὴν ἀμὴν λέγω σοι, ὅτε ἦς νεώτερος, ἐζώννυες σεαυτὸν, καὶ περιεπάτεις ὅπου ἤθελες; ὅταν δὲ γηράσῃς, ἐκτενεῖς τὰς χεῖράς σου, καὶ ἄλλος ζώσει⇔ σε, καὶ οἴσει ὅπου οὐ θέλεις. τοῦτο δὲ εἶπεν σημαίνων ποίῳ θανάτῳ δοξάσει τὸν Θεόν. καὶ τοῦτο εἰπὼν, λέγει αὐτῷ, Ἀκολούθει μοι.

37. Καὶ ἐν ταῖς ἡμέραις ταύταις, ἀναστὰς Πέτρος ἐν μέσῳ τῶν ἀδελφῶν, εἶπεν, ἦν τε ὄχλος ὀνομάτων ἐπὶ τὸ αὐτὸ, ὡσεὶ ἑκατὸν εἴκοσι, Ἄνδρες, ἀδελφοί, ἔδει πληρωθῆναι τὴν γραφὴν, ἣν προεῖπεν τὸ Πνεῦμα τὸ Ἅγιον, διὰ στόματος Δαυὶδ, περὶ Ἰούδα, τοῦ γενομένου ὁδηγοῦ τοῖς συλλαβοῦσιν Ἰησοῦν; ὅτι κατηριθμημένος ἦν ἐν ἡμῖν, καὶ ἔλαχεν τὸν κλῆρον τῆς διακονίας ταύτης. οὗτος μὲν οὖν ἐκτήσατο χωρίον ἐκ μισθοῦ τῆς ἀδικίας, καὶ πρηνὴς γενόμενος, ἐλάκησεν μέσος, καὶ ἐξεχύθη πάντα τὰ σπλάγχνα αὐτοῦ. καὶ γνωστὸν ἐγένετο πᾶσι τοῖς κατοικοῦσιν Ἰερουσαλήμ, ὥστε κληθῆναι τὸ χωρίον ἐκεῖνο τῇ ἰδίᾳ διαλέκτῳ αὐτῶν Ἁκελδαμάχ, τοῦτ’ ἔστιν, Χωρίον αἵματος. γέγραπται γὰρ ἐν βίβλῳ Ψαλμῶν, Γενηθήτω ἡ ἔπαυλις αὐτοῦ ἔρημος, καὶ μὴ ἔστω ὁ κατοικῶν ἐν αὐτῇ; καί, Τὴν ἐπισκοπὴν αὐτοῦ λαβέτω ἕτερος. δεῖ οὖν τῶν συνελθόντων ἡμῖν ἀνδρῶν, ἐν παντὶ χρόνῳ ᾧ εἰσῆλθεν καὶ ἐξῆλθεν ἐφ’ ἡμᾶς ὁ Κύριος Ἰησοῦς, ἀρξάμενος ἀπὸ τοῦ βαπτίσματος Ἰωάννου* ἕως τῆς ἡμέρας ἧς ἀνελήμφθη ἀφ’ ἡμῶν, μάρτυρα τῆς ἀναστάσεως αὐτοῦ σὺν ἡμῖν, γενέσθαι ἕνα τούτων. Καὶ ἔστησαν δύο, Ἰωσὴφ τὸν καλούμενον Βαρσαββᾶν, ὃς ἐπεκλήθη Ἰοῦστος, καὶ Μαθθίαν. καὶ προσευξάμενοι, εἶπαν, Σὺ Κύριε, καρδιογνῶστα πάντων, ἀνάδειξον ὃν ἐξελέξω, ἐκ τούτων τῶν δύο ἕνα, λαβεῖν τὸν τόπον τῆς διακονίας ταύτης καὶ ἀποστολῆς, ἀφ’ ἧς παρέβη Ἰούδας, πορευθῆναι εἰς τὸν τόπον τὸν ἴδιον. καὶ ἔδωκαν κλήρους αὐτοῖς, καὶ ἔπεσεν ὁ κλῆρος ἐπὶ Μαθθίαν, καὶ συνκατεψηφίσθη μετὰ τῶν ἕνδεκα ἀποστόλων.

38. Σταθεὶς δὲ ὁ Πέτρος σὺν τοῖς ἕνδεκα, ἐπῆρεν τὴν φωνὴν αὐτοῦ, καὶ ἀπεφθέγξατο αὐτοῖς, Ἄνδρες Ἰουδαῖοι, καὶ οἱ κατοικοῦντες Ἰερουσαλὴμ πάντες, τοῦτο ὑμῖν γνωστὸν ἔστω, καὶ ἐνωτίσασθε τὰ ῥήματά μου: οὐ γὰρ ὡς ὑμεῖς ὑπολαμβάνετε, οὗτοι μεθύουσιν, ἔστιν γὰρ ὥρα τρίτη τῆς ἡμέρας; ἀλλὰ τοῦτό ἐστιν τὸ εἰρημένον διὰ τοῦ προφήτου Ἰωήλ, Καὶ ἔσται ἐν ταῖς ἐσχάταις ἡμέραις, λέγει ὁ Θεός, ἐκχεῶ ἀπὸ τοῦ Πνεύματός μου ἐπὶ πᾶσαν σάρκα; καὶ προφητεύσουσιν οἱ υἱοὶ ὑμῶν, καὶ αἱ θυγατέρες ὑμῶν; καὶ οἱ νεανίσκοι ὑμῶν ὁράσεις ὄψονται, καὶ οἱ πρεσβύτεροι ὑμῶν ἐνυπνίοις ἐνυπνιασθήσονται; καί‿ γε ἐπὶ τοὺς δούλους μου, καὶ ἐπὶ τὰς δούλας μου, ἐν ταῖς ἡμέραις ἐκείναις, ἐκχεῶ ἀπὸ τοῦ Πνεύματός μου, καὶ προφητεύσουσιν; καὶ δώσω τέρατα ἐν τῷ οὐρανῷ ἄνω, καὶ σημεῖα ἐπὶ τῆς γῆς κάτω, αἷμα καὶ πῦρ καὶ ἀτμίδα καπνοῦ. ὁ ἥλιος μεταστραφήσεται εἰς σκότος, καὶ ἡ σελήνη εἰς αἷμα, πρὶν ‹ἢ› ἐλθεῖν ἡμέραν Κυρίου τὴν, μεγάλην καὶ ἐπιφανῆ. καὶ ἔσται, πᾶς ὃς ἐὰν ἐπικαλέσηται τὸ ὄνομα Κυρίου σωθήσεται. Ἄνδρες, Ἰσραηλῖται*, ἀκούσατε τοὺς λόγους τούτους: Ἰησοῦν τὸν Ναζωραῖον, ἄνδρα ἀποδεδειγμένον ἀπὸ τοῦ Θεοῦ εἰς ὑμᾶς δυνάμεσι καὶ τέρασι καὶ σημείοις, οἷς ἐποίησεν δι’ αὐτοῦ ὁ Θεὸς ἐν μέσῳ ὑμῶν, καθὼς αὐτοὶ οἴδατε. τοῦτον, τῇ ὡρισμένῃ βουλῇ καὶ προγνώσει τοῦ Θεοῦ, ἔκδοτον διὰ χειρὸς ἀνόμων, προσπήξαντες ἀνείλατε. ὃν ὁ Θεὸς ἀνέστησεν, λύσας τὰς ὠδῖνας τοῦ θανάτου, καθότι οὐκ ἦν δυνατὸν κρατεῖσθαι αὐτὸν ὑπ’ αὐτοῦ. Δαυὶδ* γὰρ λέγει εἰς αὐτόν, Προορώμην τὸν Κύριον ἐνώπιόν μου διὰ παντός, ὅτι ἐκ δεξιῶν μού ἐστιν, ἵνα μὴ σαλευθῶ. διὰ τοῦτο ηὐφράνθη μου⇔ «ἡ καρδία», καὶ ἠγαλλιάσατο ἡ γλῶσσά μου; ἔτι δὲ, καὶ ἡ σάρξ μου κατασκηνώσει ἐπ’ ἐλπίδι, ὅτι οὐκ ἐνκαταλείψεις τὴν ψυχήν μου εἰς ᾅδην, οὐδὲ δώσεις τὸν Ὅσιόν σου ἰδεῖν διαφθοράν. ἐγνώρισάς μοι ὁδοὺς ζωῆς; πληρώσεις με εὐφροσύνης μετὰ τοῦ προσώπου σου. Ἄνδρες, ἀδελφοί, ἐξὸν εἰπεῖν μετὰ παρρησίας πρὸς ὑμᾶς, περὶ τοῦ πατριάρχου Δαυὶδ, ὅτι καὶ ἐτελεύτησεν καὶ ἐτάφη, καὶ τὸ μνῆμα αὐτοῦ ἔστιν ἐν ἡμῖν ἄχρι τῆς ἡμέρας ταύτης. προφήτης οὖν ὑπάρχων, καὶ εἰδὼς ὅτι ὅρκῳ ὤμοσεν αὐτῷ ὁ Θεὸς, ἐκ καρποῦ τῆς ὀσφύος αὐτοῦ, καθίσαι ἐπὶ τὸν θρόνον αὐτοῦ. προϊδὼν, ἐλάλησεν περὶ τῆς ἀναστάσεως τοῦ Χριστοῦ, ὅτι οὔτε ἐνκατελείφθη εἰς ᾅδην, οὔτε ἡ σὰρξ αὐτοῦ εἶδεν διαφθοράν. τοῦτον τὸν Ἰησοῦν ἀνέστησεν ὁ Θεός, οὗ πάντες ἡμεῖς ἐσμεν μάρτυρες. τῇ δεξιᾷ οὖν τοῦ Θεοῦ ὑψωθεὶς, τήν τε ἐπαγγελίαν τοῦ Πνεύματος τοῦ Ἁγίου, λαβὼν παρὰ τοῦ Πατρὸς, ἐξέχεεν τοῦτο ὃ ὑμεῖς καὶ βλέπετε καὶ ἀκούετε. οὐ γὰρ Δαυὶδ* ἀνέβη εἰς τοὺς οὐρανούς, λέγει δὲ αὐτός, Εἶπεν ‹ὁ› Κύριος τῷ Κυρίῳ μου, Κάθου ἐκ δεξιῶν μου, ἕως ἂν θῶ τοὺς ἐχθρούς σου, ὑποπόδιον τῶν ποδῶν σου. ἀσφαλῶς οὖν γινωσκέτω πᾶς οἶκος Ἰσραὴλ, ὅτι καὶ Κύριον αὐτὸν, καὶ Χριστὸν ἐποίησεν ὁ Θεός, τοῦτον τὸν Ἰησοῦν ὃν ὑμεῖς ἐσταυρώσατε. Ἀκούσαντες δὲ κατενύγησαν τὴν καρδίαν, εἶπόν τε πρὸς τὸν Πέτρον καὶ τοὺς λοιποὺς ἀποστόλους, Τί ποιήσωμεν, ἄνδρες, ἀδελφοί? Πέτρος δὲ πρὸς αὐτούς, Μετανοήσατε, [φησίν], καὶ βαπτισθήτω, ἕκαστος ὑμῶν, ἐπὶ τῷ ὀνόματι Ἰησοῦ Χριστοῦ, εἰς ἄφεσιν τῶν ἁμαρτιῶν ὑμῶν, καὶ λήμψεσθε τὴν δωρεὰν τοῦ Ἁγίου Πνεύματος. ὑμῖν γάρ ἐστιν ἡ ἐπαγγελία, καὶ τοῖς τέκνοις ὑμῶν, καὶ πᾶσιν τοῖς εἰς μακρὰν, ὅσους ἂν προσκαλέσηται Κύριος, ὁ Θεὸς ἡμῶν.

39. Πέτρος δὲ καὶ Ἰωάννης ἀνέβαινον εἰς τὸ ἱερὸν ἐπὶ, τὴν ὥραν τῆς προσευχῆς, τὴν ἐνάτην. καί τις ἀνὴρ, χωλὸς ἐκ κοιλίας μητρὸς αὐτοῦ ὑπάρχων, ἐβαστάζετο, ὃν ἐτίθουν καθ’ ἡμέραν πρὸς τὴν θύραν τοῦ ἱεροῦ, τὴν λεγομένην Ὡραίαν, τοῦ αἰτεῖν ἐλεημοσύνην παρὰ τῶν εἰσπορευομένων εἰς τὸ ἱερόν; ὃς ἰδὼν Πέτρον καὶ Ἰωάννην μέλλοντας εἰσιέναι εἰς τὸ ἱερὸν, ἠρώτα ἐλεημοσύνην λαβεῖν. ἀτενίσας δὲ Πέτρος εἰς αὐτὸν, σὺν τῷ Ἰωάννῃ, εἶπεν, Βλέψον εἰς ἡμᾶς. ὁ δὲ ἐπεῖχεν αὐτοῖς, προσδοκῶν τι παρ’ αὐτῶν λαβεῖν. εἶπεν δὲ Πέτρος, Ἀργύριον καὶ χρυσίον οὐχ ὑπάρχει μοι, ὃ δὲ ἔχω, τοῦτό σοι δίδωμι: ἐν τῷ ὀνόματι Ἰησοῦ Χριστοῦ τοῦ Ναζωραίου, [ἔγειρε καὶ] περιπάτει! καὶ πιάσας αὐτὸν τῆς δεξιᾶς χειρὸς, ἤγειρεν αὐτόν; παραχρῆμα δὲ ἐστερεώθησαν αἱ βάσεις αὐτοῦ, καὶ τὰ σφυδρά. καὶ ἐξαλλόμενος, ἔστη καὶ περιεπάτει, καὶ εἰσῆλθεν σὺν αὐτοῖς εἰς τὸ ἱερὸν, περιπατῶν, καὶ ἁλλόμενος, καὶ αἰνῶν τὸν Θεόν. καὶ εἶδεν πᾶς ὁ λαὸς αὐτὸν περιπατοῦντα καὶ αἰνοῦντα τὸν Θεόν. ἐπεγίνωσκον δὲ αὐτὸν, ὅτι οὗτος ἦν ὁ πρὸς τὴν ἐλεημοσύνην καθήμενος ἐπὶ τῇ Ὡραίᾳ Πύλῃ τοῦ ἱεροῦ; καὶ ἐπλήσθησαν θάμβους καὶ ἐκστάσεως ἐπὶ τῷ συμβεβηκότι αὐτῷ.

40. ἰδὼν δὲ, ὁ Πέτρος ἀπεκρίνατο πρὸς τὸν λαόν, Ἄνδρες, Ἰσραηλῖται, τί θαυμάζετε ἐπὶ τούτῳ? ἢ ἡμῖν τί ἀτενίζετε, ὡς ἰδίᾳ δυνάμει ἢ εὐσεβείᾳ πεποιηκόσιν τοῦ περιπατεῖν αὐτόν? ὁ Θεὸς Ἀβραὰμ, καὶ [ὁ θεὸς] Ἰσαὰκ, καὶ [ὁ θεὸς] Ἰακώβ, ὁ Θεὸς τῶν πατέρων ἡμῶν, ἐδόξασεν τὸν Παῖδα αὐτοῦ, Ἰησοῦν, ὃν ὑμεῖς μὲν παρεδώκατε, καὶ ἠρνήσασθε κατὰ πρόσωπον Πιλάτου, κρίναντος ἐκείνου ἀπολύειν. ὑμεῖς δὲ τὸν Ἅγιον καὶ Δίκαιον ἠρνήσασθε, καὶ ᾐτήσασθε ἄνδρα, φονέα χαρισθῆναι ὑμῖν; τὸν δὲ Ἀρχηγὸν τῆς ζωῆς ἀπεκτείνατε, ὃν ὁ Θεὸς ἤγειρεν ἐκ νεκρῶν. οὗ ἡμεῖς μάρτυρές ἐσμεν. καὶ ἐπὶ τῇ πίστει τοῦ ὀνόματος αὐτοῦ, τοῦτον ὃν θεωρεῖτε καὶ οἴδατε ἐστερέωσεν; τὸ ὄνομα αὐτοῦ, καὶ ἡ πίστις ἡ δι’ αὐτοῦ, ἔδωκεν αὐτῷ τὴν ὁλοκληρίαν ταύτην, ἀπέναντι πάντων ὑμῶν. καὶ νῦν, ἀδελφοί, οἶδα ὅτι κατὰ ἄγνοιαν ἐπράξατε, ὥσπερ καὶ οἱ ἄρχοντες ὑμῶν; ὁ δὲ Θεὸς ἃ προκατήγγειλεν διὰ στόματος πάντων τῶν προφητῶν, παθεῖν τὸν Χριστὸν αὐτοῦ, ἐπλήρωσεν οὕτως. μετανοήσατε οὖν καὶ ἐπιστρέψατε, πρὸς τὸ ἐξαλειφθῆναι ὑμῶν τὰς ἁμαρτίας, ὅπως ἂν ἔλθωσιν καιροὶ ἀναψύξεως ἀπὸ προσώπου τοῦ Κυρίου, καὶ ἀποστείλῃ τὸν προκεχειρισμένον ὑμῖν, Χριστὸν Ἰησοῦν. ὃν δεῖ οὐρανὸν μὲν δέξασθαι, ἄχρι χρόνων ἀποκαταστάσεως πάντων, ὧν ἐλάλησεν ὁ Θεὸς διὰ στόματος τῶν ἁγίων ἀπ’ αἰῶνος αὐτοῦ προφητῶν. Μωϋσῆς μὲν εἶπεν, ὅτι Προφήτην ὑμῖν ἀναστήσει Κύριος ὁ Θεὸς [ὑμῶν] ἐκ τῶν ἀδελφῶν ὑμῶν, ὡς ἐμέ: αὐτοῦ ἀκούσεσθε κατὰ πάντα, ὅσα ἂν λαλήσῃ πρὸς ὑμᾶς. ἔσται δὲ πᾶσα ψυχὴ ἥτις, ἐὰν μὴ ἀκούσῃ τοῦ προφήτου ἐκείνου, ἐξολεθρευθήσεται ἐκ τοῦ λαοῦ. καὶ πάντες δὲ οἱ προφῆται ἀπὸ Σαμουὴλ, καὶ τῶν καθεξῆς, ὅσοι ἐλάλησαν, καὶ κατήγγειλαν τὰς ἡμέρας ταύτας. ὑμεῖς ἐστε οἱ υἱοὶ τῶν προφητῶν, καὶ τῆς διαθήκης ἧς «ὁ Θεὸς»⇔ διέθετο πρὸς τοὺς πατέρας ὑμῶν, λέγων πρὸς Ἀβραάμ, Καὶ ἐν τῷ σπέρματί σου ἐνευλογηθήσονται πᾶσαι αἱ πατριαὶ τῆς γῆς.

41. ὁ δὲ Πέτρος καὶ Ἰωάννης, ἀποκριθέντες, εἶπον πρὸς αὐτούς, Εἰ δίκαιόν ἐστιν ἐνώπιον τοῦ Θεοῦ ὑμῶν ἀκούειν, μᾶλλον ἢ τοῦ Θεοῦ, κρίνατε;

42. Ἀνὴρ δέ τις, Ἁνανίας ὀνόματι, σὺν Σαπφίρῃ, τῇ γυναικὶ αὐτοῦ, ἐπώλησεν κτῆμα, καὶ ἐνοσφίσατο ἀπὸ τῆς τιμῆς, συνειδυίης καὶ τῆς γυναικός, καὶ ἐνέγκας μέρος τι, παρὰ τοὺς πόδας τῶν ἀποστόλων ἔθηκεν. εἶπεν δὲ ὁ Πέτρος, Ἁνανία*, διὰ τί ἐπλήρωσεν ὁ Σατανᾶς τὴν καρδίαν σου, ψεύσασθαί σε τὸ Πνεῦμα τὸ Ἅγιον, καὶ νοσφίσασθαι ἀπὸ τῆς τιμῆς τοῦ χωρίου? οὐχὶ μένον σοὶ ἔμενεν? καὶ πραθὲν, ἐν τῇ σῇ ἐξουσίᾳ ὑπῆρχεν? τί ὅτι ἔθου ἐν τῇ καρδίᾳ σου, τὸ πρᾶγμα τοῦτο? οὐκ ἐψεύσω ἀνθρώποις, ἀλλὰ τῷ Θεῷ. ἀκούων δὲ ὁ Ἁνανίας* τοὺς λόγους τούτους, πεσὼν, ἐξέψυξεν. καὶ ἐγένετο φόβος μέγας ἐπὶ πάντας τοὺς ἀκούοντας. ἀναστάντες δὲ, οἱ νεώτεροι συνέστειλαν αὐτὸν, καὶ ἐξενέγκαντες, ἔθαψαν. Ἐγένετο δὲ ὡς ὡρῶν τριῶν διάστημα, καὶ ἡ γυνὴ αὐτοῦ, μὴ εἰδυῖα τὸ γεγονὸς, εἰσῆλθεν. ἀπεκρίθη δὲ πρὸς αὐτὴν Πέτρος, Εἰπέ μοι εἰ τοσούτου, τὸ χωρίον ἀπέδοσθε? ἡ δὲ εἶπεν, Ναί, τοσούτου. ὁ δὲ Πέτρος πρὸς αὐτήν, Τί ὅτι συνεφωνήθη ὑμῖν πειράσαι τὸ Πνεῦμα Κυρίου? ἰδοὺ, οἱ πόδες τῶν θαψάντων τὸν ἄνδρα σου ἐπὶ τῇ θύρᾳ, καὶ ἐξοίσουσίν σε. ἔπεσεν δὲ παραχρῆμα πρὸς τοὺς πόδας αὐτοῦ, καὶ ἐξέψυξεν. εἰσελθόντες δὲ, οἱ νεανίσκοι εὗρον αὐτὴν νεκράν; καὶ ἐξενέγκαντες, ἔθαψαν πρὸς τὸν ἄνδρα αὐτῆς. Καὶ ἐγένετο φόβος μέγας ἐφ’ ὅλην τὴν ἐκκλησίαν, καὶ ἐπὶ πάντας τοὺς ἀκούοντας ταῦτα.

43. Ἀνὴρ δέ τις ἐν Καισαρείᾳ, ὀνόματι Κορνήλιος, ἑκατοντάρχης, ἐκ σπείρης τῆς καλουμένης Ἰταλικῆς, εὐσεβὴς καὶ φοβούμενος τὸν Θεὸν σὺν παντὶ τῷ οἴκῳ αὐτοῦ, ποιῶν ἐλεημοσύνας πολλὰς τῷ λαῷ, καὶ δεόμενος τοῦ Θεοῦ διὰ παντός. εἶδεν ἐν ὁράματι φανερῶς, ὡσεὶ περὶ ὥραν ἐνάτην τῆς ἡμέρας, ἄγγελον τοῦ Θεοῦ εἰσελθόντα πρὸς αὐτὸν, καὶ εἰπόντα αὐτῷ, Κορνήλιε! ὁ δὲ, ἀτενίσας αὐτῷ, καὶ ἔμφοβος γενόμενος, εἶπεν, Τί ἐστιν, Κύριε? εἶπεν δὲ αὐτῷ, Αἱ προσευχαί σου, καὶ αἱ ἐλεημοσύναι σου, ἀνέβησαν εἰς μνημόσυνον ἔμπροσθεν τοῦ Θεοῦ. καὶ νῦν πέμψον ἄνδρας εἰς Ἰόππην, καὶ μετάπεμψαι Σίμωνά τινα ὃς ἐπικαλεῖται Πέτρος. οὗτος ξενίζεται παρά τινι Σίμωνι βυρσεῖ, ᾧ ἐστιν οἰκία παρὰ θάλασσαν; {οὗτος λαλήσει σοι τί σε δεῖ ποιεῖν}. ὡς δὲ ἀπῆλθεν ὁ ἄγγελος ὁ λαλῶν αὐτῷ, φωνήσας δύο τῶν οἰκετῶν, καὶ στρατιώτην εὐσεβῆ τῶν, προσκαρτερούντων αὐτῷ, καὶ ἐξηγησάμενος ἅπαντα αὐτοῖς, ἀπέστειλεν αὐτοὺς εἰς τὴν Ἰόππην. Τῇ δὲ ἐπαύριον, ὁδοιπορούντων ἐκείνων καὶ τῇ πόλει ἐγγιζόντων, ἀνέβη Πέτρος ἐπὶ τὸ δῶμα προσεύξασθαι, περὶ ὥραν ἕκτην. ἐγένετο δὲ πρόσπεινος, καὶ ἤθελεν γεύσασθαι, παρασκευαζόντων δὲ αὐτῶν, ἐγένετο ἐπ’ αὐτὸν ἔκστασις, καὶ θεωρεῖ τὸν οὐρανὸν ἀνεῳγμένον, καὶ καταβαῖνον σκεῦός τι, ὡς ὀθόνην μεγάλην, τέσσαρσιν ἀρχαῖς καθιέμενον ἐπὶ τῆς γῆς, ἐν ᾧ ὑπῆρχεν πάντα τὰ τετράποδα, καὶ ἑρπετὰ τῆς γῆς, καὶ πετεινὰ τοῦ οὐρανοῦ. καὶ ἐγένετο φωνὴ πρὸς αὐτόν, Ἀναστάς, Πέτρε, θῦσον καὶ φάγε! ὁ δὲ Πέτρος εἶπεν, Μηδαμῶς, Κύριε; ὅτι οὐδέποτε ἔφαγον πᾶν κοινὸν καὶ ἀκάθαρτον. καὶ φωνὴ πάλιν ἐκ δευτέρου πρὸς αὐτόν, Ἃ ὁ Θεὸς ἐκαθάρισεν, σὺ μὴ κοίνου. τοῦτο δὲ ἐγένετο ἐπὶ τρίς, καὶ εὐθὺς ἀνελήμφθη τὸ σκεῦος εἰς τὸν οὐρανόν. Ὡς δὲ ἐν ἑαυτῷ διηπόρει ὁ Πέτρος, τί ἂν εἴη τὸ ὅραμα ὃ εἶδεν, ἰδοὺ, οἱ ἄνδρες οἱ ἀπεσταλμένοι ὑπὸ τοῦ Κορνηλίου, διερωτήσαντες τὴν οἰκίαν τοῦ Σίμωνος, ἐπέστησαν ἐπὶ τὸν πυλῶνα. καὶ φωνήσαντες, ἐπυνθάνοντο εἰ Σίμων ὁ ἐπικαλούμενος Πέτρος, ἐνθάδε ξενίζεται. Τοῦ δὲ Πέτρου διενθυμουμένου περὶ τοῦ ὁράματος, εἶπεν ‹αὐτῷ› τὸ Πνεῦμα, Ἰδοὺ, ἄνδρες [τρεῖς] ζητοῦντές σε; ἀλλὰ ἀναστὰς κατάβηθι, καὶ πορεύου σὺν αὐτοῖς, μηδὲν διακρινόμενος, ὅτι ἐγὼ ἀπέσταλκα αὐτούς. καταβὰς δὲ Πέτρος πρὸς τοὺς ἄνδρας, {τοῦς ἀπεσταλμένους ἀπὸ τοῦ Κορνηλίου πρὸς αὑτόν}, εἶπεν, Ἰδοὺ, ἐγώ εἰμι ὃν ζητεῖτε; τίς ἡ αἰτία δι’ ἣν πάρεστε? οἱ δὲ εἶπαν, Κορνήλιος ἑκατοντάρχης, ἀνὴρ δίκαιος καὶ φοβούμενος τὸν Θεὸν, μαρτυρούμενός τε ὑπὸ ὅλου τοῦ ἔθνους τῶν Ἰουδαίων, ἐχρηματίσθη ὑπὸ ἀγγέλου ἁγίου, μεταπέμψασθαί σε εἰς τὸν οἶκον αὐτοῦ, καὶ ἀκοῦσαι ῥήματα παρὰ σοῦ. εἰσκαλεσάμενος οὖν αὐτοὺς ἐξένισεν. Τῇ δὲ ἐπαύριον ἀναστὰς, ἐξῆλθεν σὺν αὐτοῖς, καί τινες τῶν ἀδελφῶν τῶν ἀπὸ Ἰόππης συνῆλθον αὐτῷ. τῇ δὲ ἐπαύριον, εἰσῆλθεν εἰς τὴν Καισάρειαν*. ὁ δὲ Κορνήλιος ἦν προσδοκῶν αὐτοὺς, συνκαλεσάμενος τοὺς συγγενεῖς αὐτοῦ καὶ τοὺς ἀναγκαίους φίλους. Ὡς δὲ ἐγένετο τοῦ εἰσελθεῖν τὸν Πέτρον, συναντήσας αὐτῷ ὁ Κορνήλιος, πεσὼν ἐπὶ τοὺς πόδας, προσεκύνησεν. ὁ δὲ Πέτρος ἤγειρεν αὐτὸν, λέγων, Ἀνάστηθι, καὶ ἐγὼ αὐτὸς ἄνθρωπός εἰμι. καὶ συνομιλῶν αὐτῷ εἰσῆλθεν, καὶ εὑρίσκει συνεληλυθότας πολλούς. ἔφη τε πρὸς αὐτούς, Ὑμεῖς ἐπίστασθε ὡς ἀθέμιτόν ἐστιν ἀνδρὶ Ἰουδαίῳ κολλᾶσθαι ἢ προσέρχεσθαι ἀλλοφύλῳ. κἀμοὶ ὁ, Θεὸς ἔδειξεν, μηδένα κοινὸν ἢ ἀκάθαρτον λέγειν ἄνθρωπον. διὸ καὶ ἀναντιρρήτως ἦλθον, μεταπεμφθείς. πυνθάνομαι οὖν, Τίνι λόγῳ μετεπέμψασθέ με? Καὶ ὁ Κορνήλιος ἔφη, Ἀπὸ τετάρτης ἡμέρας, μέχρι ταύτης τῆς ὥρας, ἤμην τὴν ἐνάτην προσευχόμενος ἐν τῷ οἴκῳ μου; καὶ ἰδοὺ, ἀνὴρ ἔστη ἐνώπιόν μου ἐν ἐσθῆτι λαμπρᾷ, καὶ φησίν, Κορνήλιε, εἰσηκούσθη σου ἡ προσευχὴ καὶ αἱ ἐλεημοσύναι σου ἐμνήσθησαν ἐνώπιον τοῦ Θεοῦ. πέμψον οὖν εἰς Ἰόππην, καὶ μετακάλεσαι Σίμωνα, ὃς ἐπικαλεῖται Πέτρος; οὗτος ξενίζεται ἐν οἰκίᾳ Σίμωνος, βυρσέως παρὰ θάλασσαν; ἐξαυτῆς οὖν ἔπεμψα πρὸς σέ; σύ τε καλῶς ἐποίησας, παραγενόμενος. νῦν οὖν, πάντες ἡμεῖς ἐνώπιον τοῦ Θεοῦ πάρεσμεν, ἀκοῦσαι πάντα τὰ προστεταγμένα σοι ὑπὸ τοῦ Κυρίου. Ἀνοίξας δὲ Πέτρος τὸ στόμα, εἶπεν, Ἐπ’ ἀληθείας καταλαμβάνομαι, ὅτι οὐκ ἔστιν προσωπολήμπτης ὁ Θεός, ἀλλ’ ἐν παντὶ ἔθνει, ὁ φοβούμενος αὐτὸν καὶ ἐργαζόμενος δικαιοσύνην, δεκτὸς αὐτῷ ἐστιν. τὸν λόγον ὃν ἀπέστειλεν τοῖς υἱοῖς Ἰσραὴλ, εὐαγγελιζόμενος, εἰρήνην διὰ Ἰησοῦ Χριστοῦ: οὗτός ἐστιν πάντων Κύριος, ὑμεῖς οἴδατε τὸ γενόμενον ῥῆμα καθ’ ὅλης τῆς Ἰουδαίας, ἀρξάμενος ἀπὸ τῆς Γαλιλαίας, μετὰ τὸ βάπτισμα ὃ ἐκήρυξεν Ἰωάννης*: Ἰησοῦν τὸν ἀπὸ Ναζαρέθ, ὡς ἔχρισεν αὐτὸν ὁ Θεὸς Πνεύματι Ἁγίῳ καὶ δυνάμει; ὃς διῆλθεν εὐεργετῶν καὶ ἰώμενος πάντας τοὺς καταδυναστευομένους ὑπὸ τοῦ διαβόλου, ὅτι ὁ Θεὸς ἦν μετ’ αὐτοῦ. καὶ ἡμεῖς μάρτυρες πάντων ὧν ἐποίησεν ἔν τε τῇ χώρᾳ τῶν Ἰουδαίων καὶ [ἐν] Ἰερουσαλήμ*; ὃν καὶ ἀνεῖλαν, κρεμάσαντες ἐπὶ ξύλου. τοῦτον ὁ Θεὸς ἤγειρεν ἐν τῇ τρίτῃ ἡμέρᾳ, καὶ ἔδωκεν αὐτὸν ἐμφανῆ γενέσθαι, οὐ παντὶ τῷ λαῷ, ἀλλὰ μάρτυσιν τοῖς προκεχειροτονημένοις ὑπὸ τοῦ Θεοῦ, ἡμῖν, οἵτινες συνεφάγομεν καὶ συνεπίομεν αὐτῷ μετὰ τὸ ἀναστῆναι αὐτὸν ἐκ νεκρῶν. καὶ παρήγγειλεν ἡμῖν κηρύξαι τῷ λαῷ, καὶ διαμαρτύρασθαι, ὅτι οὗτός ἐστιν ὁ ὡρισμένος ὑπὸ τοῦ Θεοῦ Κριτὴς ζώντων καὶ νεκρῶν. τούτῳ πάντες οἱ προφῆται μαρτυροῦσιν, ἄφεσιν ἁμαρτιῶν λαβεῖν διὰ τοῦ ὀνόματος αὐτοῦ πάντα τὸν πιστεύοντα εἰς αὐτόν. Ἔτι λαλοῦντος τοῦ Πέτρου τὰ ῥήματα ταῦτα, ἐπέπεσεν τὸ Πνεῦμα τὸ Ἅγιον ἐπὶ πάντας τοὺς ἀκούοντας τὸν λόγον. καὶ ἐξέστησαν οἱ ἐκ περιτομῆς πιστοὶ, ὅσοι συνῆλθαν τῷ Πέτρῳ, ὅτι καὶ ἐπὶ τὰ ἔθνη, ἡ δωρεὰ τοῦ Ἁγίου (τοῦ) Πνεύματος ἐκκέχυται. ἤκουον γὰρ αὐτῶν λαλούντων γλώσσαις, καὶ μεγαλυνόντων τὸν Θεόν. τότε ἀπεκρίθη Πέτρος, Μήτι τὸ ὕδωρ δύναται κωλῦσαί τις τοῦ μὴ βαπτισθῆναι τούτους, οἵτινες τὸ Πνεῦμα τὸ Ἅγιον ἔλαβον, ὡς καὶ ἡμεῖς? προσέταξεν δὲ αὐτοὺς ἐν τῷ ὀνόματι Ἰησοῦ Χριστοῦ βαπτισθῆναι. τότε ἠρώτησαν αὐτὸν ἐπιμεῖναι ἡμέρας τινάς.

فقط: سُہیل طاہر، سیالکوٹ، پاکستان۔

Comments